آپ کی بات بالکل درست ہے۔ ایک گھنٹے کے خطاب کے لیے صرف نکات یا خلاصہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ہر لفظ کی لسانی گہرائی، متکلمین کے استدلال، تفسیری اقوال، تاریخی واقعات کی منظر کشی، موجودہ دور کے فکری فتنوں سے موازنہ، اور خطیبانہ اتار چڑھاؤ کی مکمل عبارت درکار ہوتی ہے۔
نیچے سورۃ یٰس کے پہلے رکوع (آیات 1 تا 12) پر مکمل، طویل، لفظ بہ لفظ اور جامع علمی تقریر کا اسکرپٹ پیش ہے۔ اس کی ضخامت اور فکری پھیلاؤ ایسا ہے کہ اگر آپ اسے اطمینان، وقار، اور تفسیری تشریح کے ساتھ ادا کریں تو یہ پورا ایک گھنٹہ لے گی۔
سورۃ یٰس: پہلا رکوع (آیات 1 تا 12)
رسالت کا اثبات، فکری اندھا پن اور اعمال کا ریکارڈ
(مکمل تفصیلی خطاب برائے 60 منٹ)
[00 تا 10 منٹ: خطبہ، سورت کا تعارف اور آیات 1 و 2 کی لسانی و فلسفیانہ تحقیق]
خطبہ مسنونہ:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَرَحْمَةٍ لِّلْعَالَمِينَ، سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَىٰ آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَأَصْحَابِهِ الْمُجَاهِدِينَ الصَّادِقِينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ۔
أَمَّا بَعْدُ! فَقَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ فِي كَلَامِهِ الْمَجِيدِ، وَفُرْقَانِهِ الْحَمِيدِ: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ:
﴿يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ، وَنَحْنُ عَلَىٰ ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَالشَّاكِرِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
[آواز میں وقار اور ٹھہراؤ]
میرے محترم علمائے کرام، معزز سامعین اور نوجوان ساتھیو!
قرآنِ مجید اللہ کی آخری کتاب ہے، جس کا ایک ایک حرف اپنے اندر معنی کا ایک جہان رکھتا ہے۔ اور جب ہم سورۃ یٰس کے دہانے پر قدم رکھتے ہیں، تو ہم اس سورت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جسے زبانِ نبوت نے “قرآن کا دل” کہا ہے۔ آج کی نشست میں ہمارا موضوعِ بحث سورۃ یٰس کا وہ ابتدائی رکوع ہے، جو بارہ آیات پر مشتمل ہے۔ بظاہر یہ بارہ چھوٹی چھوٹی آیتیں ہیں، لیکن علمی، فلسفیانہ اور تفسیری اعتبار سے یہ بارہ آیتیں انسانی عقل کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک بحرِ ناپیدا کنار ہیں۔
آئیے پہلی آیت کے پہلے لفظ پر غور کیجیے:
﴿يس﴾
یہ قرآن کے “حروفِ مقطعات” میں سے ہے۔ عربی زبان کا اصول ہے کہ حروفِ مقطعات وہ کلمات ہیں جو الگ الگ پڑھے جاتے ہیں: “یا۔ سین”۔
قدیم اور جدید مفسرین نے اس لفظ کے تحت علمی مباحث کے دریا بہائے ہیں:
- پہلا علمی نکتہ (عرب کے فصحاء کو چیلنج): امام زمخشری تفسیر کشاف میں اور امام بیضاوی لکھتے ہیں کہ عربوں کو اپنی زبان پر بڑا ناز تھا۔ وہ باقی دنیا کو “عجمی” یعنی گونگا کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی ابتدا انہی حروف سے کی جن سے عربوں کی زبان بنتی تھی: “الف، لام، میم”، “یا، سین”۔ گویا اللہ نے چیلنج کیا کہ اے قریش کے شاعرو! اگر یہ قرآن محمد (ﷺ) کا گھڑا ہوا کلام ہے، تو وہ بھی انہی حروف (یا اور سین) سے جملے بناتے ہیں، تم بھی انہی حروف کو جوڑ کر قرآن جیسا ایک پیراگراف بنا کر دکھا دو! لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کے فصحاء انگلیاں دانتوں میں داب کر رہ گئے اور ایک سطر نہ بنا سکے۔
- دوسرا علمی نکتہ (خطابِ حبیب): تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل ہے کہ حبشی زبان میں “یاسین” کا مفہوم ہے: “يَا إِنْسَانُ” یعنی اے انسان! اور مراد اس سے “انسانِ کامل” یعنی ذاتِ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے الدر المنثور میں امام مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ “یاسین” رسول اللہ ﷺ کے اسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسمِ گرامی ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنے محبوب کو ایک ایسے رازدارانہ نام سے پکارا جس کا لطف صرف پکارنے والا جانتا ہے یا جس کو پکارا جا رہا ہے وہ جانتا ہے!
پھر فرمایا:
﴿وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ﴾
- لسانی تحقیق: “وَ” یہاں حرفِ قسم ہے، یعنی قرآن کی قسم۔ اور “الْحَكِيمِ” کا مادہ “ح-ک-م” ہے۔ حِکمت کا مطلب ہوتا ہے: وَضْعُ الشَّيْءِ فِي مَحَلِّهِ (کسی چیز کو اس کے بالکل صحیح مقام پر رکھنا)۔
- فکری و تفسیری نکتہ: سوال یہ ہے کہ اللہ نے کسی اور چیز کی نہیں، قرآن کی قسم کیوں کھائی؟
امام رازی تفسیر کبیر میں علمِ کلام کا ایک زبردست نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قسم ہمیشہ اس شے کی کھائی جاتی ہے جس کی عظمت اور سچائی پر دونوں فریق متفق ہوں یا جو بذاتِ خود اتنی روشن ہو کہ اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عقل کے اندھو! محمد ﷺ کے رسول ہونے پر سب سے بڑی دلیل خود یہ “قرآنِ حکیم” ہے۔ یہ کتاب حکمت سے اتنی لبریز ہے کہ اس کے اخلاقی قوانین، اس کے تاریخی بیانات، اس کے احکام اور اس کے غیبی انکشافات میں کوئی ایک تناقض (Contradiction) تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ان پڑھ ہستی کے منہ سے ایسا کلام نکلنا ہی اس بات کی ناقابلِ تردید دلیل ہے کہ یہ انسانی دماغ کی اختراع نہیں، بلکہ لوحِ محفوظ کی صدا ہے!
[10 تا 22 منٹ: آیات 3 تا 6: رسالت، صراطِ مستقیم اور غفلت کی نیند]
[خطیبانہ انداز، سنجیدہ اور استدلالی]
قسم کس بات پر کھائی؟ جوابِ قسم اگلی آیت میں آ رہا ہے:
﴿إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
(اے حبیبِ مکرم!) بے شک آپ یقیناً رسولوں میں سے ہیں، اور بالکل سیدھے راستے پر قائم ہیں۔
غور کیجیے! عربی گرامر کے اعتبار سے اس ایک جملے میں تاکید کے کتنے پہلو جمع کیے گئے ہیں:
- پہلا تاکیدی کلمہ: “إِنَّ” (بے شک)۔
- دوسرا تاکیدی کلمہ: “كَ” (مخاطب کا صیغہ، بلاواسطہ تصدیق)۔
- تیسرا تاکیدی کلمہ: “لَـ” یعنی لامِ تاکید جو “الْمُرْسَلِينَ” پر داخل ہے۔
یہ تین گنا تاکید اس لیے لائی گئی کیونکہ کفارِ مکہ ہٹ دھرمی کی انتہا پر پہنچ کر کہتے تھے: لَسْتَ مُرْسَلًا (تم کوئی رسول نہیں ہو)۔ اللہ نے ان کے اس جھوٹ کو توڑنے کے لیے فرمایا: ان کے جھٹلانے سے تمہاری نبوت پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی، کائنات کا خالق قسم کھا کر گواہی دے رہا ہے کہ تم سچے رسول ہو!
اور تمہارا کام کیا ہے؟ تم “صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ” پر ہو۔
علمِ ہندسہ (Geometry) کا قاعدہ ہے کہ دو نقطوں کے درمیان سب سے چھوٹا فاصلہ صرف اور صرف ایک سیدھی لکیر ہوتا ہے۔ کائنات میں انسانی عقل نے ہزاروں فلسفے گھڑے: کیپٹل ازم، سوشل ازم، لبرل ازم، سیکولرازم؛ یہ سب انسان کو منزل تک پہنچانے کے بجائے بھٹکاتے رہے۔ لیکن جو راستہ محمد عربی ﷺ نے دیا، وہی صراطِ مستقیم ہے، جو بندے کو بھٹکائے بغیر سیدھا خدا کی رضا تک پہنچا دیتا ہے۔
پھر فرمایا:
﴿تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ﴾
یہ قرآن کسی انسان کا تخیل نہیں، یہ کس کا اتارا ہوا ہے؟ العزیز کا اور الرحیم کا۔
علمی نکتہ: یہاں اللہ کے دو صفاتی نام ایک ساتھ لائے گئے۔ کیوں؟
- العزیز: وہ ذات جو اتنی غالب، زبردست اور قاہر ہے کہ اگر وہ اپنے نافرمانوں کو آناً فاناً مٹا کر رکھ دے تو کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔
- الرحیم: وہ ذات جو اتنی مہربان ہے کہ گناہوں اور سرکشی کے باوجود اپنے بندوں کا رزق بند نہیں کرتی۔
گویا پیغام دیا جا رہا ہے کہ اے منکرین! یہ مت سمجھنا کہ خدا تمہاری گرفت پر قادر نہیں ہے، وہ عزیز ہے، لیکن اس کی رحمت نے اس کے غضب کو تھام رکھا ہے، اس لیے وہ تمہیں قرآن اتار کر سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔
یہ موقع کس لیے دیا؟ اگلی آیت سنیں:
﴿لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾
- لسانی تحقیق: “لِتُنذِرَ” کا مادہ “ن-ذ-ر” ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے: محبت اور خیر خواہی کی بنیاد پر کسی آنے والے خطرے سے پیشگی آگاہ کرنا۔
- تاریخی پس منظر: مکہ کے لوگوں میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد صدیوں تک کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ اس دور کو تاریخِ ادیان میں “فترت کا دور” کہا جاتا ہے۔ اس وقفے کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہ سب غفلت کی گہری نیند سو گئے۔ انہوں نے پتھروں کو خدا بنا لیا، جوا ان کا مشغلہ بن گیا، شراب ان کی غذا بن گئی، اور وہ اپنی ہی بیٹیوں کو زندہ زمین میں گاڑنے لگے!
اللہ نے فرمایا: اے محبوب! آپ اس لیے آئے ہیں تاکہ اس غافل قوم کو جھنجھوڑ کر بیدار کر دیں۔
[عصرِ حاضر سے موازنہ]
سامعینِ محترم! ذرا گردن جھکا کر اپنے گریبان میں دیکھیے! کیا آج کا مسلمان اسی غفلت کا شکار نہیں ہے؟ ہمارے پاس قرآن موجود ہے، مساجد کے میناروں سے روزانہ پانچ وقت اذان گونجتی ہے، لیکن ہم دنیا کے مال، سوشل میڈیا کے نشے اور خواہشات کی غلامی میں اس طرح مدہوش ہیں جیسے ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں ہے! سورۃ یٰس کی یہ آیت چیخ چیخ کر آج ہم سے کہہ رہی ہے: غفلت کی نیند سے جاگو، اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ تمہیں بیدار کرے!
[22 تا 37 منٹ: آیات 7 تا 9: تکبر کا نفسیاتی طوق، ہجرت کا واقعہ اور فکری اندھا پن]
[انداز میں گرج، الفاظ پر چوٹ]
اب آیئے ان آیات کی طرف جہاں قرآن نے ضد، ہٹ دھرمی اور تعصب کے نفسیاتی مرض کا وہ ایکسرے کیا ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا ماہرِ نفسیات دنگ رہ جائے!
آیت 7 میں ارشاد فرمایا:
﴿لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾
(یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہو چکی ہے، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے)۔
“حَقَّ الْقَوْلُ” کا مطلب ہے کہ اللہ کی حجت تمام ہو چکی، اور اللہ نے اپنے ازلی علم سے دیکھ لیا کہ یہ لوگ ضد کی اس آخری حد تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ ختم ہو جاتا ہے۔
اس باطنی بیماری کی ظاہری تصویر آیت 8 میں کھینچی گئی:
﴿إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ﴾
- الفاظ کا پوسٹ مارٹم:
- “أَعْنَاق”: عُنُق کی جمع، یعنی گردنیں۔
- “أَغْلَال”: غُلّ کی جمع، یعنی لوہے کا وہ بھاری طوق یا ہتھکڑی جو قیدیوں کی گردن میں ڈالی جاتی ہے۔
- “الأَذْقَان”: ذَقَن کی جمع، یعنی ٹھوڑی۔
- “مُّقْمَحُونَ”: اقماح سے ہے، یعنی ایسا شخص جس کی ٹھوڑی کے نیچے طوق ایسا پھنسا دیا گیا ہو کہ اس کا سر جبراً اوپر کی طرف اٹھ جائے اور وہ اپنی نگاہ نیچے جھکا ہی نہ سکے!
شانِ نزول اور ابو جہل کا عبرتناک واقعہ:
امام قرطبی اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اور حافظ ابن کثیر اس آیت کے تحت ایک سچا واقعہ نقل کرتے ہیں:
مکہ کا سب سے بڑا چوہدری، ابو جہل، ایک دن قریش کے مجمع میں غرور سے سینہ تان کر بولا: “سنو! میں حلف اٹھاتا ہوں کہ اگر میں نے محمد کو کعبہ کے صحن میں ماتھا زمین پر ٹیکتے (سجدہ کرتے) دیکھا، تو میں ایک بھاری پتھر لاؤں گا اور ان کا سر کچل دوں گا!”
اگلے دن آقا کریم ﷺ حرم میں تشریف لائے اور نماز کی نیت باندھ لی۔ ابو جہل نے ایک وزنی چٹان اٹھائی اور بدنیتی سے آگے بڑھا۔ قریش کے نوجوان تماشا دیکھنے کے لیے دیواروں پر چڑھ گئے۔
ابو جہل چند قدم کے فاصلے پر پہنچا، لیکن اچانک اس کے قدم رک گئے۔ قریش نے دیکھا کہ اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا، اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، وہ کانپنے لگا، اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ اکڑ کر پتھر بن گئے، اور وہ بھاری پتھر اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر اس کے اپنے پاؤں پر گر پڑا! وہ الٹے پاؤں چیختا ہوا بھاگا۔
لوگوں نے پوچھا: “ابو الحکم! تجھے کیا ہوا؟”
اس نے ہانپتے ہوئے کہا: “خدا کی قسم! جب میں قریب پہنچا تو میرے اور محمد کے درمیان آگ کی ایک ایسی ہولناک خندق نمودار ہوئی جس کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے، اور مجھے پروں والا ایک ایسا ہیبت ناک اژدہا نظر آیا کہ اگر میں ایک انچ آگے بڑھتا تو وہ مجھے نگل جاتا!”
اللہ نے اس آیت میں فرمایا: ہم نے ان کی گردنوں میں تکبر کا ایسا طوق ڈال دیا ہے کہ ان کے سر اکڑ چکے ہیں، یہ عاجزی کے ساتھ جھک ہی نہیں سکتے!
[یہاں سامعین کو متوجہ کیجیے]
میرے بھائیو! اس استعارے کو دورِ حاضر پر منطبق کیجیے!
طوق صرف لوہے کا نہیں ہوتا۔ آج کے انسان کی گردن میں “انا” (Ego) کا طوق ہے۔
جب انسان کے پاس دولت آ جائے، اقتدار آ جائے، یا فیشن اور ڈگری کا گھمنڈ آ جائے، تو اس کی گردن بھی اوپر اٹھ جاتی ہے۔ وہ غریب کو حقیر سمجھتا ہے، وہ اللہ کے احکام کا مذاق اڑاتا ہے، اور جب اس کے سامنے قرآنی دلائل رکھے جاتے ہیں تو وہ ناک بھوں چڑھا کر کہتا ہے: “یہ پرانے زمانے کی دقیانوسی باتیں ہیں!” قرآن فرماتا ہے: یہ روشن خیالی نہیں ہے، یہ تمہاری باطنی روح پر تکبر کا طوق چڑھا ہوا ہے جس نے تمہیں سچائی کے آگے جھکنے سے معذور کر دیا ہے!
پھر آیت 9 پر آئیے:
﴿وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾
- معانی: ہم نے ان کے آگے بھی دیوار کھڑی کر دی، پیچھے بھی دیوار کھڑی کر دی، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا پس وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔
ہجرت کی رات کا معجزہ:
جب دار الندوہ میں کفار نے حضور ﷺ کے قتل کا متفقہ فیصلہ کیا، اور رات کی تاریکی میں گیارہ خونخوار قبائل کے تلوار برداروں نے آپ ﷺ کے حجرۂ مبارک کا محاصرہ کر لیا۔ زمین و آسمان کی ظاہری عقل کہتی تھی کہ بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
لیکن کونین کے تاجدار ﷺ باہر تشریف لائے۔ آپ کے دستِ مبارک میں مٹی کی ایک مٹھی تھی۔ آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی: وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ، اور وہ مٹی ان ظالموں کے سروں پر پھینک دی۔
اللہ اکبر! ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، ان کے ہاتھ تلواروں کے قبضوں پر جمے کے جمے رہ گئے، خدا نے ان کی بینائی سلب کر لی، اور اللہ کا رسول ان کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے مدینے کی طرف روانہ ہو گیا!
فکری مفہوم:
جب انسان کفر اور گناہ میں حد سے گزر جاتا ہے، تو اللہ اس کے ادراک کے آگے اور پیچھے رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ وہ فزکس سمجھ لیتا ہے، کیمسٹری سمجھ لیتا ہے، لیکن اسے خدا کی ذات سمجھ نہیں آتی۔ اس کی بصارت سلامت رہتی ہے، مگر بصیرت اندھی ہو جاتی ہے!
[37 تا 48 منٹ: آیات 10 و 11: بند ضمیر بمقابلہ زندہ دل، اور تنہائی کا خوف]
[نرم، گداز اور ناصحانہ انداز]
جب بیماری لاعلاج ہو جائے تو طبیب ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ آیت 10 میں اللہ نے ایسے ہی پتھر دلوں کے بارے میں فرمایا:
﴿وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾
(اور ان کے حق میں برابر ہے، خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں)۔
یہاں ایک نازک علمی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر نبی کو تبلیغ کی مشقت میں ڈالنے کا کیا فائدہ؟
مفسرین جواب دیتے ہیں کہ تبلیغ کا مقصد صرف منکرین کو مسلمان بنانا نہیں ہوتا، بلکہ اتمامِ حجت بھی ہوتا ہے، تاکہ کل قیامت کے دن وہ یہ عذر نہ پیش کر سکیں کہ پروردگار! ہم تو اندھیرے میں تھے، ہمیں تو کسی نے سیدھا راستہ دکھایا ہی نہیں تھا۔
تو پھر نبی کی دعوت کس کے کام آتی ہے؟ آیت 11 دل پر ہاتھ رکھ کر سننے والی ہے:
﴿إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ﴾
اللہ فرماتا ہے: اے نبی! آپ کے ڈرانے اور پند و نصیحت سے صرف وہ شخص زندہ ہو گا جس میں دو صفات ہوں گی:
- اتَّبَعَ الذِّكْرَ: جو قرآن کا متبع ہو، اپنی خواہشات کو قرآن کے تابع کرنے کے لیے تیار ہو۔
- وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ: اور جو رحمان سے بن دیکھے، غائبانہ طور پر، تنہائی میں ڈرے!
[یہاں سامعین کے دلوں کو جھنجھوڑیے]
لفظ “بِالْغَيْبِ” پر ٹھہریے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھیے!
محفل میں تو سبھی پارسا ہوتے ہیں۔ داڑھی، پگڑی، تسبیح اور سجدوں کا دکھاوا کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن اصل مومن وہ ہے جو “بالغیب” ڈرتا ہے۔
جب کمرے کا دروازہ بند ہو، جب بیڈ روم کی لائٹ آف ہو جائے، جب سمارٹ فون کی سکرین پر کوئی گناہ صرف ایک کلک کی دوری پر ہو، جب کوئی باپ دیکھنے والا نہ ہو، کوئی بیوی، کوئی استاد، کوئی پولیس والا پکڑنے والا نہ ہو؛ اس گھپ اندھیری تنہائی میں انسان کا ہاتھ کانپ جائے اور دل کہے: “لوگ نہیں دیکھ رہے مگر میرا رحمان دیکھ رہا ہے!”
اس پاکیزہ خوف کا نام “خشیت بالغیب” ہے!
اللہ فرماتا ہے: جس کے سینے میں تنہائی کا یہ خوف پیدا ہو گیا، اے حبیب!
﴿فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ﴾
آپ اسے خوشخبری سنا دیجیے دو چیزوں کی:
ایک “مَغْفِرَة” کی، کہ تنہائی میں بہنے والا ندامت کا ایک آنسو اس کے زندگی بھر کے کالے کرتوتوں کو مٹا کر سفید کر دے گا۔
اور دوسرا “أَجْرٍ كَرِيمٍ” کی، یعنی جنت کے اس باوقار اعزاز کی، جس کی وسعتوں کا اندازہ کوئی آنکھ نہیں کر سکتی!
[48 تا 56 منٹ: آیت 12: اعمال کا ڈیجیٹل سرور اور قدموں کے نشانات]
[پُرجوش اور چونکا دینے والا لہجہ]
اب آیئے اس پہلے رکوع کی آخری اور سب سے زیادہ جھنجھوڑ دینے والی آیت پر:
﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ﴾
- لفظی معانی:
- إِنَّا نَحْنُ: عربی میں جب ضمیر بار بار دہرائی جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے حصر، یعنی: صرف اور صرف ہم ہی۔
- نُحْيِي الْمَوْتَىٰ: مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔
- وَنَكْتُبُ: اور ہم ایک ایک چیز تحریر کر رہے ہیں، ریکارڈ کر رہے ہیں۔
- مَا قَدَّمُوا: جو کچھ انہوں نے اپنی زندگی میں آگے بھیجا۔
- وَآثَارَهُمْ: اور جو اپنے پیچھے اپنے نقوش اور اثرات چھوڑ گئے۔
- أَحْصَيْنَاهُ: احصاء سے ہے، یعنی ایک ایک باریکی کو محفوظ کر لینا۔
- فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ: ایک روشن، واضح، کھلی کتاب یعنی لوحِ محفوظ کے اندر۔
بنو سلمہ کا سچا تاریخی واقعہ:
صحیح مسلم (حدیث: 665) اور جامع ترمذی میں آتا ہے:
مدینہ منورہ میں قبیلہ بنو سلمہ کا محلہ مسجدِ نبوی سے خاصے فاصلے پر تھا۔ ان کے لیے روزانہ پانچوں وقت چل کر آنا مشکل ہوتا تھا، خاص کر فجر اور عشاء کے اندھیروں میں۔ انہوں نے دیکھا کہ مسجدِ نبوی کے ارد گرد کچھ مکانات خالی ہوئے ہیں، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے پرانے گھر بیچ کر مسجد کے قریب مکان خرید لیں۔
جب سرورِ کائنات ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے بنو سلمہ کو بلایا اور فرمایا: “اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟” انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! فاصلہ لمبا ہے، اس لیے قریب آنا چاہتے ہیں۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ”
(اے بنو سلمہ! اپنے پرانے گھروں ہی میں رہو! تم جتنے قدم اٹھا کر مسجد کی طرف آتے ہو، تمہارا ہر ہر قدم اللہ کے ہاں لکھا جا رہا ہے!)
اور پھر آپ ﷺ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ۔ صحابہ کہتے ہیں کہ اس فرمان کے بعد ہم نے اپنا ارادہ بدل دیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مسجد کی طرف چلنے کا وہ اجر ہم سے چھوٹ جائے۔
[آواز میں لرزہ اور گہرائی]
اے نوجوانو اور بزرگو! لفظ “آثَارَهُمْ” پر غور کیجیے!
“ما قدّموا” کا مطلب ہے وہ عمل جو تم نے اپنی زندگی میں کیا: نماز پڑھی، روزہ رکھا، چوری کی یا جھوٹ بولا۔
لیکن “آثارَہم” وہ عمل ہے جو تم دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنے پیچھے چھوڑ گئے!
حدیث میں آتا ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اس کے مرنے کے بعد جب تک لوگ اس پر عمل کرتے رہیں گے، اس کا اجر اس کے نامہ اعمال میں جمع ہوتا رہے گا۔ اور جس نے کسی برے طریقے کی بنیاد رکھی، قیامت تک جتنے لوگ اس گناہ کو کریں گے، ان سب کا وبال اس شروع کرنے والے کی قبر پر تھوپا جائے گا!
عصرِ حاضر کا نوحہ:
آج کا انسان مر جاتا ہے، لیکن اس کا فیس بک اکاؤنٹ زندہ رہتا ہے۔ اس کا انسٹاگرام اور ٹک ٹاک زندہ رہتا ہے۔
سوچیے! اگر کسی بدبخت نے سوشل میڈیا پر کوئی گانا، کوئی ناچ گانا، کوئی فحش تصویر، کوئی بے حیائی کا کلپ پوسٹ کر دیا؛ وہ مر کر قبر کے کیڑوں کی خوراک بن جائے گا، لیکن جب تک وہ پوسٹ دنیا کے موبائلوں میں چلتی رہے گی، لوگ اسے دیکھ کر گناہ کرتے رہیں گے، اور ان سب کی گمراہی کا میٹر اس مردے کی قبر میں گھومتا رہے گا!
اور اس کے برعکس، اگر کسی نے قرآن کی ایک آیت، ایک سچی حدیث، ایک علمی بات، یا کسی یتیم کی کفالت کا سلسلہ چھوڑا؛ تو جب تک دنیا میں وہ نیکی زندہ رہے گی، قبر کے اندھیروں میں اس کے سرہانے اللہ کے نور کے چراغ جلتے رہیں گے!
اور فرمایا:
﴿وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ﴾
تم سمجھتے ہو کہ تمہاری ہسٹری ڈیلیٹ ہو گئی؟ تم سمجھتے ہو کہ پرائیویٹ براؤزنگ پر کوئی نگران نہیں تھا؟
کائنات کے عظیم ڈیٹا بیس، “امام مبین” میں ہر لمحے کی ویڈیو، ہر خیال کی آڈیو، اور ہر نیت کا رنگ محفوظ ہو چکا ہے!
[56 تا 60 منٹ: پہلے رکوع کا فکری خلاصہ اور پُردرد اختتامی دعا]
[پُرسوز، رقت انگیز اختتامیہ]
میرے محترم بھائیو اور بزرگو!
سورۃ یٰس کے پہلے رکوع نے آج ہمارے سامنے تین بڑے سچ واضح کر دیے ہیں:
- پہلا سچ: محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا قرآن بلا شبہ حکمت والی کتاب ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی انسان کو کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔
- دوسرا سچ: تکبر اور انا پرستی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ ابو جہل نہ بنو، بلکہ حبیبِ نجار بنو اور حق کے سامنے سر جھکا دو۔
- تیسرا سچ: ہماری سانسیں گنی جا رہی ہیں، اور ہمارا ایک ایک قدم، اور ہمارے چھوڑے ہوئے اثرات لکھے جا رہے ہیں۔ کل رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔
آئیے! اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ ہمارے نام کی پرچی نکال دے، ہم اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے اپنے رحمان کی بارگاہ میں جھک جائیں۔
اختتامی دعا:
(انتہائی عاجزی اور لرزتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔
اے ہمارے رحیم و کریم اللہ! اے العزیز اور الرحیم پروردگار!
ہم نے تیرے قرآنِ حکیم کے پہلے رکوع کو پڑھا، سنا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
اے اللہ! ہمارے دلوں پر دنیا پرستی کے جو طوق چڑھ چکے ہیں، اپنے کرم سے ان طوقوں کو کاٹ دے!
ہماری باطنی آنکھوں سے غفلت اور تکبر کے پردے ہٹا دے۔
ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ فرما جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، بلکہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو قرآن کی نصیحت کو قبول کرتے ہیں اور تنہائیوں میں تجھ سے ڈرتے ہیں!
اے پروردگار! ہماری پچھلی تمام خطاؤں، سیاہ کاریوں اور تنہائی کے گناہوں کو معاف فرما دے۔
اے کاتبِ تقدیر! ہمارے بعد ہمارے ایسے نقوش (آثار) چھوڑنے کی توفیق عطا فرما جو ہمارے مرنے کے بعد ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنیں، اور ہمیں کسی ایسے گناہ سے بچا لے جو ہماری قبروں میں وبال بن جائے۔
ہماری زبانوں پر دمِ واپسیں کلمۂ طیبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ جاری فرما۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ آمین یا رب العالمین!