yasin ruku 1

آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ ایک گھنٹے کے تفصیلی اور پرتاثیر بیان کے لیے صرف آیات کا ترجمہ اور مختصر تشریح کافی نہیں ہوتی۔ ایک کامیاب مقرر جب ایک گھنٹے کا بیان کرتا ہے، تو وہ آیات کی تلاوت میں ٹھہراؤ لاتا ہے، ایک ایک لفظ کی لغوی اور روحانی گہرائی میں اترتا ہے، شانِ نزول اور تاریخ کے واقعات (حکایات) بیان کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر ان 1400 سال پرانی آیات کا آج کے دور اور سامعین کی انفرادی زندگی سے ربط (Connection) جوڑتا ہے۔

میں آپ کے لیے پہلے رکوع (آیت 1 تا 12) کا ایک انتہائی مفصل، علمی، روحانی اور جذباتی خاکہ اور اسکرپٹ تیار کر رہا ہوں۔ اسکرپٹ کے دوران میں نے بریکٹ [...] میں آپ (مقرر) کے لیے کچھ ہدایات دی ہیں کہ کہاں آواز کو کیسا رکھنا ہے اور کس بات کو کتنا وقت دینا ہے تاکہ آپ کا ایک گھنٹہ بہترین انداز میں مکمل ہو۔

[خطبہ اور تمہید — وقت: 5 سے 7 منٹ]

(روایتی عربی خطبہ، درودِ پاک اور سورۃ یٰسین کی ابتدائی 12 آیات کی انتہائی خوبصورت، ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں۔ تلاوت میں جتنا وقت لیں گے، سامعین کے دل اتنے ہی نرم ہوں گے۔)

حمد و ثنا اور ربطِ مضمون:

محترم حاضرینِ مجلس، بزرگانِ دین اور میرے عزیز بھائیو!

آج کی اس پرنور اور بابرکت محفل میں، جس میں فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے، ہم نے اللہ رب العزت کے اس عظیم کلام کا انتخاب کیا ہے جسے سید الانبیاء ﷺ نے “قرآن کا دل” قرار دیا ہے۔ ذرا چشمِ تصور سے اس منظر کو دیکھیے جب مکہ کی سرزمین پر جہالت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، تکبر کے بتوں کی پوجا ہو رہی تھی، اور انسانیت اپنی ہلاکت کے کنارے کھڑی تھی۔ ایسے میں غارِ حرا سے ایک نور پھوٹتا ہے، اور وہ نور انسانیت کے مردہ جسم میں ایک دھڑکتے ہوئے “دل” کی طرح اترتا ہے۔ وہ دل سورۃ یٰسین ہے۔

آج ہم اس سورت کے پہلے رکوع پر غور کریں گے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اگلے ایک گھنٹے کے لیے دنیا کے تمام تفکرات، کاروبار، اور الجھنوں کو مسجد کے دروازے سے باہر چھوڑ آئیں۔ آج ہم براہِ راست اپنے رب کے کلام سے مکالمہ کریں گے۔

[پہلی اور دوسری آیت کا علمی و روحانی بیان — وقت: 10 سے 12 منٹ]

يٰسٓ ۝ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ ۝

سامعینِ ذی وقار! کائنات کا خالق جب کلام کرتا ہے تو اس کا انداز دنیا کے تمام بادشاہوں سے مختلف ہوتا ہے۔ سورت کا آغاز ‘يٰسٓ’ سے ہو رہا ہے۔ یہ حروفِ مقطعات ہیں۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کے محبوب ﷺ کے درمیان ایک راز ہے۔ یہ محب اور محبوب کی وہ خفیہ گفتگو ہے جسے دنیا کی کوئی لغت پوری طرح نہیں سمجھ سکتی۔ لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا ایک خوبصورت معنی بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حبشہ کی زبان یا قبیلہ بنی طے کی لغت میں یٰسین کا مطلب ہے “اے انسان!” اور بعض عارفین نے کہا “اے سید المرسلین!”۔

ذرا اس خطاب کی مٹھاس کو محسوس کریں۔ مکہ کے سردار طعنے دے رہے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو بازاروں میں چلتا ہے، کھانا کھاتا ہے؟ وہ کسی فرشتے کے منتظر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو تسلی دی اور فرمایا: “اے میرے کامل انسان! اے میرے محبوب!” یعنی نبوت فرشتوں کا نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج کا نام ہے۔

اور پھر فرمایا: وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ

اللہ قسم کھا رہا ہے۔ کس کی؟ حکمت والے قرآن کی۔

میرے بھائیو! اللہ کو قسم کھانے کی حاجت کیوں پیش آئی؟ قسم وہ کھاتا ہے جس کی بات پر اعتبار نہ کیا جا رہا ہو۔ اور اللہ کس چیز کی قسم کھا رہا ہے؟ اس نے آسمانوں، ستاروں یا پہاڑوں کی قسم نہیں کھائی، بلکہ اپنے کلام کی قسم کھائی ہے۔ اور کلام کے ساتھ صفت لگائی ‘حکیم’۔ حکیم اس ڈاکٹر کو کہتے ہیں جو نبض پہچانتا ہو، جو مرض جانتا ہو اور جس کے پاس ہر بیماری کی شفا ہو۔

یہاں اللہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے مکہ والو! تم اس نبی پر اعتراض کرتے ہو؟ ذرا اس کلام کو تو سنو جو ان کی زبان سے جاری ہے۔ کیا دنیا کا کوئی پڑھا لکھا فلاسفر، کوئی بڑا شاعر ایسا کلام لا سکتا ہے؟ نہیں! تو پھر جس ان پڑھ (اُمّی) نبی کی زبان سے یہ حکمتوں کے چشمے ابل رہے ہیں، وہ اس کی اپنی زبان نہیں، بلکہ میں ربِ ذوالجلال اس کی زبان سے بول رہا ہوں۔ یہ قرآن کا اعجاز ہی محمد ﷺ کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

[تیسری اور چوتھی آیت: رسالت اور صراطِ مستقیم — وقت: 10 منٹ]

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۝ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝

(مقرر یہاں اپنی آواز میں تھوڑا جلال اور تیزی لائے)

یہ ہے وہ دعویٰ جس کے لیے قرآن کی قسم کھائی گئی! “بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں، اور سیدھے راستے پر ہیں۔”

دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی راستے پر چل رہا ہے۔ کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی شہرت کے پیچھے، کوئی طاقت کے نشے میں اندھا ہے۔ لیکن یہ تمام راستے ٹیڑھے ہیں۔ یہ انسان کو تھکا دیتے ہیں، برباد کر دیتے ہیں۔

“صراطِ مستقیم” کیا ہے؟ سیدھا راستہ۔ اور سیدھا راستہ ریاضی (Mathematics) کا اصول ہے کہ دو نقطوں کے درمیان سب سے چھوٹا فاصلہ (Shortest distance) ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں منزل تک پہنچنے کا سب سے چھوٹا اور محفوظ راستہ دیتا ہے۔ یہ راستہ نہ تو انسان کو دنیا ترک کر کے جنگلوں میں جانے کا کہتا ہے (رہبانیت)، اور نہ ہی مادہ پرستی میں غرق ہونے کا۔ یہ راستہ دکان پر بیٹھ کر دیانت داری سے تجارت کرنے والے کو بھی ولی بنا دیتا ہے۔ اور اس راستے کے امام کون ہیں؟ محمد رسول اللہ ﷺ!

[پانچویں اور چھٹی آیت: نزولِ قرآن کا مقصد اور غفلت کی بیماری — وقت: 10 منٹ]

تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۝ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ ۝

یہ قرآن نازل کس نے کیا؟ اس نے جو “العزیز” (زبردست طاقتور) بھی ہے اور “الرحیم” (نہایت مہربان) بھی۔ یہ دونوں صفات ایک ساتھ کیوں آئیں؟

عزیزانِ من! دنیا کا کوئی بادشاہ طاقتور ہو تو رحم نہیں کرتا، ظالم بن جاتا ہے۔ اور اگر رحم دل ہو تو کمزور ہوتا ہے، کوئی اس کے قانون کو نہیں مانتا۔ اللہ نے فرمایا: میرا قانون اٹل ہے، میری طاقت لامحدود ہے، میں چاہوں تو نافرمانوں کو ایک سیکنڈ میں زمین میں دھنسا دوں (العزیز)۔ لیکن میں ایسا نہیں کرتا، کیونکہ میں (الرحیم) بھی ہوں۔ میں ظالموں کو مہلت دیتا ہوں، بار بار انبیاء بھیجتا ہوں۔

اور یہ نبی ہم نے کیوں بھیجا؟ “تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جو غفلت میں پڑی ہے۔”

(یہاں مقرر آج کے دور سے مثال دے)

غفلت کیا ہے؟ غفلت یہ نہیں کہ انسان کو پتہ نہ ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قبر میں جانا ہے۔ روزانہ جنازے اٹھاتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے عزیزوں کو مٹی میں دفناتے ہیں۔ لیکن کیا ہماری زندگی بدلی؟ نہیں! ہم جنازے سے واپس آکر پھر اسی دنیاوی دوڑ، اسی جھوٹ، اسی فریب اور اسی غیبت میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ہے غفلت! موبائل اسکرینوں نے، سوشل میڈیا کی چکاچوند نے، اور بینک بیلنس کی ہوس نے ہماری آنکھوں پر غفلت کی پٹیاں باندھ دی ہیں۔ ہم کھلی آنکھوں سے سو رہے ہیں۔ اور قرآن اسی غفلت کی نیند سے جگانے آیا ہے۔

[ساتویں، آٹھویں اور نویں آیت: تکبر کا انجام اور ہجرتِ مدینہ کا واقعہ — وقت: 10 سے 12 منٹ]

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا…

اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو حق کو سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، لیکن اپنی “انا” (Ego) اور تکبر کی وجہ سے مانتے نہیں۔ ابو جہل، ابو لہب، اور امیہ بن خلف… یہ سب جانتے تھے کہ حضور ﷺ سچے ہیں، لیکن ان کی سرداری آڑے آگئی۔

اللہ فرماتا ہے: “ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پھنسے ہیں، جس سے ان کے سر اکڑ گئے ہیں۔”

یہ لوہے کے طوق نہیں ہیں میرے بھائیو! یہ تکبر کے، ضد کے، اور تعصب کے طوق ہیں۔ آج بھی جب کسی کو حق بات بتائی جائے تو وہ کہتا ہے “میری برادری کیا کہے گی؟ لوگ کیا کہیں گے؟” یہ وہی طوق ہیں جس نے گردن کو اکڑا دیا ہے کہ حق کے سامنے سر نہیں جھکتا۔

اور پھر فرمایا: وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا… (ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دیواریں کھڑی کر دی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے)۔

(یہاں ہجرت کا مشہور واقعہ پوری تفصیل اور سسپنس کے ساتھ بیان کریں)

یاد کیجیے ہجرت کی وہ رات! مکہ کے تمام سرداروں نے ننگی تلواریں لے کر نبی ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ جب محمد ﷺ صبح نکلیں گے تو سب مل کر وار کریں گے۔ یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی۔ میرے آقا ﷺ نے اپنے بستر پر سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کو لٹایا، اپنی مٹھی میں خاک لی، اور یہی آیت “وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا” پڑھ کر ان کافروں پر پھینکی۔

اللہ کی قسم! ان کی آنکھیں کھلی تھیں، ان کی تلواریں چمک رہی تھیں، لیکن ان پر ایسی غفلت طاری ہوئی کہ سرکارِ دو عالم ﷺ ان کے بیچ میں سے گزر کر چلے گئے اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ یہ ہے اللہ کا قانون! جو حق سے آنکھیں چراتا ہے، اللہ اس کی بصارت ہی چھین لیتا ہے۔

[آخری آیات: ہدایت کا مستحق کون؟ اور صدقہِ جاریہ کا تصور — وقت: 8 سے 10 منٹ]

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ

تو پھر یہ قرآن ہدایت کسے دیتا ہے؟ فرمایا: “آپ کی نصیحت صرف اسے فائدہ دے گی جو قرآن کی پیروی کرے اور تنہائی میں، غیب میں رحمٰن سے ڈرے۔”

میرے عزیزو! مجمعے میں سب نیک ہوتے ہیں۔ اصل تقویٰ وہ ہے جب آپ اکیلے کمرے میں ہوں، موبائل آپ کے ہاتھ میں ہو، انٹرنیٹ چل رہا ہو، کوئی دیکھنے والا نہ ہو… اس وقت اگر آپ کے دل میں یہ خیال آ جائے کہ “میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے” اور آپ گناہ سے رک جائیں، تو مبارک ہو! آپ اس آیت کے مصداق بن گئے ہیں۔ آپ کو اللہ کی طرف سے مغفرت کی خوشخبری ہے۔

إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ

پہلے رکوع کی آخری آیت ایک زلزلہ ہے۔ فرمایا: “بے شک ہم ہی مُردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم لکھ رہے ہیں جو اعمال وہ آگے بھیج چکے، اور جو ان کے نشانات (آثار) پیچھے رہ گئے۔”

یہ ‘آثار’ کیا ہیں؟ انسان تو مر جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات دنیا میں باقی رہتے ہیں۔

اگر آپ نے کسی پیاسے کے لیے کنواں کھدوا دیا، کوئی مسجد بنا دی، کسی کو دین کی بات سکھا دی، تو آپ قبر میں ہوں گے اور ثواب آپ تک پہنچتا رہے گا۔ یہ صدقہِ جاریہ ہے۔

لیکن خدانخواستہ، اگر آپ نے انٹرنیٹ پر کوئی بے حیائی کی ویڈیو شیئر کر دی، معاشرے میں کوئی بری رسم ڈال دی، تو جب تک لوگ اس برائی پر عمل کرتے رہیں گے، آپ کی قبر میں عذاب کا رجسٹر کھلا رہے گا۔ یہ گناہِ جاریہ ہے۔

[خلاصہِ کلام اور دعا — وقت: 3 سے 5 منٹ]

عزیزانِ گرامی! سورۃ یٰسین کا یہ پہلا رکوع ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم قرآن کو صرف طاقوں میں سجانے اور تعویذ بنانے کے بجائے اپنی زندگی کا رہبر بنائیں۔ تکبر اور انا کے طوق اتار پھینکیں۔ خلوت اور تنہائی میں اللہ کا خوف پیدا کریں اور مرنے سے پہلے دنیا میں ایسے “آثار” اور نشانات چھوڑ کر جائیں جو ہماری بخشش کا ذریعہ بنیں۔

آئیے، اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھاتے ہیں۔

“اے اللہ! ہمارے دلوں سے غفلت کے پردے ہٹا دے۔ ہمیں سورۃ یٰسین کی حقیقی معرفت عطا فرما۔ جو حق ہم نے سنا، اسے دلوں میں اتارنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما…”

(یہاں اپنی مرضی کی جامع دعا کروائیں اور بیان کا اختتام کریں)

مقرر کے لیے ایک مشورہ: اس اسکرپٹ کو پڑھتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور آواز کے اتار چڑھاؤ (Pitch variation) پر خاص توجہ دیں۔ جہاں اللہ کے جلال کا ذکر ہو وہاں آواز میں رعب لائیں، اور جہاں رحمت اور مغفرت کا ذکر ہو وہاں آواز میں عاجزی اور نرمی اختیار کریں۔ ان شاء اللہ، یہ بیان سامعین کے دلوں میں اتر جائے گا۔ کیا اسلوب اور مواد آپ کی ضرورت کے عین مطابق ہے؟

Leave a Comment