سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ

تقریر: سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ
وقت: تقریباً 15 منٹ
موضوع: سیرت، اخلاق اور خدمتِ خلق
حصہ اول: خطبہ اور تعارف (2 منٹ)
(پُراعتماد انداز میں مائیک سنبھالیں، چہرے پر مسکراہٹ اور ادب ہو)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ، اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾
صدرِ ذی وقار، معزز اساتذۂ کرام، علمائے عظام اور میرے ہم مکتب ساتھیو!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ!
آج مجھے جس عظیم الشان ہستی کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے، وہ برصغیر پاک و ہند کے بے تاج بادشاہ، انسانیت کے مسیحا، اور تاریک دلوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والے پیشوا ہیں۔ جنہیں دنیا “سلطان الہند” اور دکھی دلوں کا سہارا بننے کی وجہ سے “خواجہ غریب نواز” کے نام سے یاد کرتی ہے۔
کسی شاعر نے سچ کہا ہے:
(شعر ترنم اور پُرجوش آواز میں پڑھیں)
خواجۂ خواجگاں معین الدین
فخرِ کون و مکاں معین الدین
آفتابِ سپہرِ دین و متین
محییِ شرعِ مصطفیٰ خواجہ!
حصہ دوم: ولادت، بچپن اور طلبِ حق کا سفر (3 منٹ)
(آواز میں سنجیدگی اور نرمی لائیں)
حاضرینِ باوقار!
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا مبارک نام “معین الدین” یعنی دین کا مددگار ہے۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں، یعنی والد کی طرف سے حسنی اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حسینی سید ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت ۵۳۷ ہجری میں خطۂ سیستان (سنجر) میں ہوئی۔
آپ کا بچپن عام بچوں جیسا نہ تھا۔ آپ بچپن ہی سے عبادت گزار، سنجیدہ اور بے حد سخی تھے۔ جب آپ کی عمر صرف پندرہ سال تھی تو والدِ محترم حضرت غیاث الدین رحمۃ اللہ علیہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ وراثت میں آپ کو ایک باغ اور ایک پن چکی (پانی کی چکی) ملی، جس سے آپ اپنی روزی کماتے تھے۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اچانک ایک درویش حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ وہاں تشریف لائے۔ کم عمر معین الدین نے اپنے مہمان کا والہانہ استقبال کیا، ادب سے بٹھایا اور تازہ انگوروں کا خوشہ پیش کیا۔ درویش نے خوش ہو کر اپنے تھیلے سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا، خود چبایا اور اس نیک سیرت بچے کے منہ میں ڈال دیا۔
(یہاں تھوڑا رک کر پُرجوش انداز میں کہیں)
میرے دوستو!
بس وہ لقمہ کھانا تھا کہ آپ کے دل کی دنیا بدل گئی۔ دنیا کی محبت دل سے نکل گئی، اور دل میں اللہ کی محبت اور طلبِ حق کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ آپ نے فوراً اپنا باغ اور پن چکی بیچ ڈالی، تمام دولت غریبوں، مسکینوں اور یتیموں میں تقسیم کر دی اور تنِ تنہا علم و دین کی جستجو میں گھر سے نکل پڑے۔
حصہ سوم: پیر و مرشد کی خدمت اور ادب کا درس (2 منٹ)
(اساتذہ کی طرف ادب سے دیکھیں اور سامعین سے خطاب کریں)
میرے پیارے دوستو اور بزرگوں!
علم کی تلاش میں آپ نے سمرقند اور بخارا کا سفر کیا، قرآن و حدیث اور فقہ میں کمال حاصل کیا۔ لیکن دل کو سکون تب ملا جب آپ نیشاپور کے قریب قصبہ “ہارون” میں اپنے وقت کے عظیم ولی حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے۔
خواجہ غریب نواز نے اپنے مرشد کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جانتے ہیں آپ نے اپنے مرشد کی کتنے سال خدمت کی؟ پورے ۲۰ سال!
اور خدمت کا عالم یہ تھا کہ سفر ہو یا حضر، مرشد کا بستر اور سامان اپنے سر پر اٹھا کر چلتے تھے۔ کبھی پیشانی پر بل نہیں لائے، کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہ آیا۔
اسی ادب اور بے لوث خدمت کا نتیجہ تھا کہ ایک دن مرشدِ کامل نے خوش ہو کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:
“معین الدین! ہم نے تجھے خدا تک پہنچا دیا اور اللہ نے تجھے قبول فرما لیا۔”
یہاں ہم جیسے طلبہ کے لیے کتنا بڑا سبق ہے کہ جو اپنے اساتذہ اور والدین کا ادب و احترام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے زمین سے اٹھا کر آسمانِ عزت پر چمکا دیتا ہے!
حصہ چہارم: دربارِ رسالت ﷺ سے بشارت اور اجمیر آمد (3 منٹ)
(آواز میں والہانہ عقیدت اور جوش لائیں)
سامعینِ محترم!
مرشدِ کامل سے فیض پانے کے بعد خواجہ صاحب حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ مکہ مکرمہ میں کعبۃ اللہ کے سائے میں دعائیں مانگیں اور پھر مدینہ منورہ پہنچ کر روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی۔
وہاں بارگاہِ رسالت ﷺ سے آپ کو روحانی اشارہ اور حکم ملا:
“اے معین الدین! تم ہمارے دین کے مددگار ہو۔ ہم تمہیں ہندوستان کی ولایت سونپتے ہیں، اجمیر جاؤ اور وہاں اللہ کی توحید کا پرچم لہراؤ۔”
خواجہ غریب نواز چند جانثار ساتھیوں کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے۔ اس وقت ہندوستان کی حالت کیا تھی؟ ہر طرف شرک، کفر، بت پرستی اور اونچ نیچ کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا۔
خواجہ صاحب اجمیر شریف کے میدان میں اترے۔ آپ کے پاس کوئی تلوار نہ تھی، کوئی بڑی فوج نہ تھی، کوئی توپ و بندوق نہ تھی۔ آپ کے پاس صرف دو چیزیں تھیں:
ایک قرآن کا نور اور دوسرا مصطفیٰ کریم ﷺ کا بے مثال اخلاق!
(یہ شعر جوش سے پڑھیں)
نہ تیغ و تیر کی حاجت، نہ شمشیر و کلاں کوئی
فتح کر لی دلوں کی بستیاں اخلاق سے تو نے!
جو شخص آپ کے چہرۂ پُرنور کی زیارت کرتا، آپ کی میٹھی زبان سنتا، آپ کے دسترخوان سے کھانا کھاتا، وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ کے دستِ حق پرست پر لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا!
حصہ پنجم: خواجہ غریب نواز کے سنہری ارشادات اور اخلاق (3 منٹ)
(نصیحت کے انداز میں، سامعین کے دلوں کو چھوتے ہوئے)
صدرِ ذی وقار!
آج ہم خواجہ صاحب کا نام تو بڑے شوق سے لیتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ خواجہ صاحب کی تعلیمات کیا تھیں؟
ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: “حضور! اللہ کو کون سا بندہ سب سے زیادہ پسند ہے؟”
تو خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے تین صفات بیان فرمائیں:
دریا جیسی سخاوت: جو ہر پیاسے کو پانی دیتا ہے، چاہے وہ اپنا ہو یا پرایا۔
آفتاب جیسی شفقت: جو ہر ایک پر چمکتا ہے، بغیر رنگ و نسل کے فرق کے۔
زمین جیسی عاجزی و تواضع: جس پر سب قدم رکھتے ہیں لیکن وہ سب کا بوجھ خاموشی سے اٹھاتی ہے۔
انہیں “غریب نواز” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور لاچاروں کے آنسو پونچھتے تھے۔ آپ کے آستانے پر امیر ہو یا غریب، ہندو ہو یا مسلمان، کسی میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ کا لنگر ہر ایک کے لیے کھلا رہتا تھا، اور الحمد للہ آج آٹھ سو سال گزرنے کے بعد بھی اجمیر شریف میں وہ لنگر جاری و ساری ہے۔
خواجہ صاحب نے نماز کی اس قدر پابندی فرمائی کہ زندگی بھر کبھی آپ کی جماعت تو درکنار، تہجد کی نماز بھی قضا نہیں ہوئی۔
حصہ ششم: آج کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے پیغام و اختتام (2 منٹ)
(آواز میں جذبہ اور اپیل ہو، مٹھی باندھ کر اعتماد سے بولیں)
میرے پیارے دوستو اور ساتھیو!
خواجہ غریب نواز کا عرس یا محفل منانا صرف لنگر کھانے اور نعرے لگانے کا نام نہیں۔ سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔
آج خواجہ غریب نواز کی بارگاہ سے ہم بچوں کو تین اہم سبق ملتے ہیں:
پہلا سبق: ہم نماز کی پابندی کریں، جھوٹ سے بچیں اور سچے مسلمان بنیں۔
دوسرا سبق: اپنے والدین اور اساتذہ کا ادب اپنی جان سے بڑھ کر کریں۔
تیسرا سبق: اپنے محلے کے غریب بچوں، کلاس کے کمزور ساتھیوں کی مدد کریں، نفرت کا جواب محبت سے دیں اور اپنے اخلاق کو ایسا بنائیں کہ لوگ ہمیں دیکھ کر دینِ اسلام سے محبت کرنے لگیں۔
آخر میں، میں بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ مولائے کریم ہمیں اولیائے کرام بالخصوص سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان سے مالامال فرمائے، ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے پیارے ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔
(شعر پر تقریر مکمل کریں)
ہند الولی خواجہ، شہہِ اجمیر ہیں خواجہ
ایمان کی ہر سانس کی جاگیر ہیں خواجہ
طالب ہیں تیرے لطف کے، دامن کو پسارے
ہم پر بھی کرم کیجیے، اے شاہِ ہمارے!
وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن۔
وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ!

Leave a Comment