وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

اگر آپ کو یہ بیان لفظ بہ لفظ یاد کر کے خطاب کی صورت میں پیش کرنا ہے، تو ذیل میں پیرزادہ محمد رضا ثاقب مصطفائی صاحب کے طرزِ خطابت، الفاظ، لہجے اور ترتیب کے مطابق سورۂ یٰسٓ کی آیت نمبر 9 سے لے کر دوسرے رکوع کے اختتام (آیت نمبر 32) تک کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے۔
اسے یاد کرنے کی سہولت کے لیے آیت وار اور خطیبانہ پیراگراف کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ آپ روانی سے اسٹیج پر بیان کر سکیں:
[حصہ اول: آیت نمبر 9 تا 12 (پہلے رکوع کا اختتام)]
1. آیت نمبر 9 کی تلاوت و تشریح:
تلاوت:
وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
بیان و تفہیم:
سامعینِ محترم! ربِ کریم نے اپنے حبیبﷺ کے منکرین کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“اور ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار بنا دی، پھر ہم نے انہیں اوپر سے ڈھانپ دیا، پس وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔”
حضراتِ گرامی! ذرا غور کیجیے! آگے بھی اونچی دیوار ہو، پیچھے بھی دیوار چن دی جائے، گردنوں میں طوق ڈال کر منہ اوپر کی طرف کھینچ دیے جائیں، چہروں پر غفلت کے پردے اور خول چڑھا دیے جائیں، تو مجھے بتائیے! کیا ایسے شخص کو چڑھتا ہوا سورج دکھائی دے گا؟ کیا چمکتا ہوا چاند نظر آئے گا؟ کیا ٹمٹماتے ہوئے ستارے سجھائی دیں گے؟
فرمایا: محبوب! ان منکرین کی حالت بھی یہی ہے۔ تیری نبوت و رسالت کا آفتاب تو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، لیکن ان کی آنکھیں عناد اور کفر کے اندھیروں کی اتنی عادی ہو چکی ہیں کہ انہیں یہ نور نظر ہی نہیں آ رہا۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ جب ابوجہل اور نضر بن حارث پتھر اٹھا کر نبیِ کریمﷺ کو اذیت دینے آئے، تو اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ وہیں پتھروں سمیت خشک ہو گئے اور گردنیں تَن گئیں۔ حق تو سامنے موجود تھا مگر ان کی باطنی اور ظاہری بصارت پر مہر لگ چکی تھی۔
2. آیت نمبر 10 کی تلاوت و تشریح:
تلاوت:
وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
بیان و تفہیم:
ارشاد فرمایا: “اور محبوب! ان کے حق میں برابر ہے، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔”
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور آگے پیچھے دیواریں کر دی ہیں، تو پھر ان کا کیا قصور کہ وہ ایمان نہیں لاتے؟
فرمایا: بات یہ نہیں ہے کہ انہیں پہلے سے محروم کر دیا گیا، بلکہ انہوں نے حق کی مسلسل تکذیب کی، پیغمبرِ رحمت کی تضحیک کی، نبوت کا تمسخر اڑایا اور اپنے باطن کو کفر کی ظلمت کا ایسا خوگر بنا لیا کہ ان کی طبیعت ہی مسخ ہو گئی۔ جب انسان ایک طویل عرصے تک اندھیرے میں رہے تو اچانک روشنی اس کی آنکھوں کو چبھتی ہے۔ یہ اندھیروں کے اتنے عادی ہو گئے کہ سورج طلوع ہوا تو چمگادڑ کی طرح آنکھیں بند کر کے چھپنے لگے۔
یار دیکھو! ابو جہل اور ابو لہب مکے میں نبیِ کریمﷺ کے پاس رہ کر بھی محروم رہے، اور بلال حبشہ سے دیکھ رہا ہے! سلمان فارس سے دیکھ رہا ہے! اور صہیب روم سے نظارے کر رہا ہے!
شعر:
کول ہوندیاں وی کئی آں اپنا نہ جانیا
دل والیاں آکھیا دلدار آ گئے!
3. آیت نمبر 11 کی تلاوت و تشریح:
تلاوت:
إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ
بیان و تفہیم:
سوال پیدا ہوا کہ باری تعالیٰ! جب اکثر لوگ مانیں گے ہی نہیں، تو پھر پیغمبر تبلیغ کیوں کریں؟ بنجر زمین پر بیج کیوں بویا جائے؟
فرمایا: نہیں محبوب! آپ کے کرم کا مینہ برستا رہنا چاہیے! تبلیغ کا فریضہ ادا ہوتا رہنا چاہیے! آپ کا ڈرانا اور نصیحت فرمانا اس خوش نصیب کے لیے اکسیر ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور اپنے رحمان سے بن دیکھے ڈرے۔
ایک وہ ہیں جو حق کی صدا سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور ایک وہ بھی تو ہیں جیسے عبداللہ ابنِ مکتومؓ، جن کی آنکھوں میں ظاہری بینائی نہیں، مگر دل میں ایمان کا نور ہے۔ وہ حضورﷺ کی خوشبو سونگھتے سونگھتے پہاڑوں کے پتھروں سے ٹکرا کر بھی درِ رسالت پر حاضر ہوتے ہیں اور جھولی پھیلا کر کہتے ہیں: “یا رسول اللہ! علّمنی ممّا علّمک اللہ” (یا رسول اللہ! جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے، اس میں سے مجھے بھی عطا فرما دیجیے)۔
شعر:
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے!
فرمایا: “فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ” محبوب! ایسے طالبِ حق کو بخشش اور عزت والے اجر کی بشارت دے دیجیے۔ وہ اجر جس کو رب خود “کریم” کہے، اس کی عظمتوں کا اندازہ کون کر سکتا ہے!
4. آیت نمبر 12 کی تلاوت و تشریح:
تلاوت:
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ
بیان و تفہیم:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: “بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ فرمائیں گے، اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو ان کے پیچھے آثار رہ گئے، اور ہر چیز کو ہم نے ایک روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں محفوظ کر رکھا ہے۔”
محبوب! آپ غمگین نہ ہوں۔ ایک وقت آئے گا کہ ہم قبروں سے مردوں کو اٹھائیں گے۔ ان کافروں کی مخالفت بھی لکھی جا رہی ہے اور آپ کی جدوجہد کا ایک ایک لمحہ بھی درج ہو رہا ہے۔
علامہ ابنِ عاشور فرماتے ہیں کہ اس کا ایک معنوی مفہوم یہ بھی ہے کہ محبوب! آپ تبلیغ فرماتے رہیں، ایک دن آئے گا کہ کفر کی موت مرے ہوئے مردہ دل بھی کلمہ پڑھ کر زندہ ہو جائیں گے! اور پھر زمانے نے دیکھا کہ فتحِ مکہ کے دن وہی وادیاں جو مخالفت سے گونجتی تھیں، مصطفیٰ کریمﷺ کے نعروں سے گونج اٹھیں۔
[حصہ دوم: آیت نمبر 13 تا 32 (دوسرا رکوع – اصحاب القریہ اور حبیب نجار کا واقعہ)]
5. آیت نمبر 13 تا 17 (انطاکیہ کے رسول اور ان کی تکذیب):
تلاوت:
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءَهَا الْمُرْسَلُونَ ۞ إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُمْ مُرْسَلُونَ ۞ قَالُوا مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَمَا أَنْزَلَ الرَّحْمَٰنُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ۞ قَالُوا رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ ۞ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
بیان و تفہیم:
سامعینِ باوقار! اب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ اور اہل مکہ کے سامنے انطاکیہ بستی (اصحاب القریہ) کا واقعہ تسلی اور عبرت کے لیے بیان فرمایا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ واقعات اور کہانیوں سے جلدی اثر لیتا ہے۔
فرمایا: اس بستی کی طرف اللہ نے یکے بعد دیگرے دو رسول بھیجے۔ بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کے ذریعے ان کی تائید فرمائی۔ تینوں رسولوں نے جا کر کہا: “ہم تمہاری طرف اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔”
لیکن بستی والوں نے وہی ازلی بہانہ بنایا جو ہر دور کے بدبختوں کا شیوہ رہا ہے۔ کہنے لگے:
“ما انتم الا بشر مثلنا” (تم تو ہماری طرح کے گوشت پوست کے انسان ہو، بشر ہو! رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم محض جھوٹ بولتے ہو!)
حضرات! غور فرمائیے! یہ نادان زندہ، چلتے پھرتے، کلام کرتے پیغمبروں کو “بشر” کہہ کر ماننے سے انکار کر رہے ہیں، اور دوسری طرف بے جان، مردہ پتھروں اور بتوں کے آگے ماتھے رگڑتے ہیں۔ جانتے ہیں کیوں؟ اس لیے کہ پتھر کے بت انسان سے کچھ نہیں مانگتے۔ زانی زنا کرے، چور چوری کرے، بت ٹوکتے نہیں، شریعت نافذ نہیں کرتے۔ لیکن جب رسول کو مانا جائے تو اپنی مرضی، اپنی انا اور اپنی خواہشات کے جنازے نکالنے پڑتے ہیں!
رسولوں نے ان بدتمیزیوں کے جواب میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا، بلکہ کمالِ وقار اور شرافت سے فرمایا:
“ربّنا یعلم انا الیکم لمرسلون ۞ وما علینا الا البلاغ المبین”
(ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم واقعی اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور ہمارے ذمے تو صرف واضح انداز میں حق کا پیغام پہنچا دینا ہے!)
6. آیت نمبر 18 تا 19 (قوم کی دھمکی اور نحوست کا الزام):
تلاوت:
قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ ۞ قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ ۚ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ
بیان و تفہیم:
جب ان کے پاس دلیل نہ رہی تو بدزبانی پر اتر آئے۔ کہنے لگے: “ہم تو تمہیں اپنے لیے منحوس سمجھتے ہیں! اگر تم اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تمہیں دردناک سزا دیں گے۔”
مفسرین فرماتے ہیں کہ ان کے ہاں بارش نہ ہوتی یا کوئی تکلیف آتی، تو اس کا الزام ان پاک ہستیوں پر ڈال دیتے۔
رسولوں نے جواب دیا: “طائرکم معکم” (تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے اعمال اور بداعمالیوں کی وجہ سے تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے! کیا جب تمہیں نصیحت کی جائے تو تم الٹا بدشگونی لینے لگتے ہو؟ بلکہ تم تو حد سے گزر جانے والے لوگ ہو!)
7. آیت نمبر 20 تا 25 (مردِ مومن حضرت حبیب نجار کا کردار):
تلاوت:
وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ ۞ اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ ۞ وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۞ أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَٰنُ بِضُرٍّ لَا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونِ ۞ إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۞ إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ
بیان و تفہیم:
جب بستی کے ظالموں نے پتھر، کلہاڑیاں اور خنجر اٹھا لیے اور ان تینوں پیغمبروں کو شہید کرنے پر تل گئے، تو دیکھیے قدرت کا نظام!
“وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ”
(اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک مرد دوڑتا ہوا آیا!)
اللہ اکبر! قرآن نے اسے “رَجُلٌ” (مردِ کامل) کہہ کر پکارا! یہ حضرت حبیب نجار (صاحبِ یٰسٓ) تھے، جو شہر سے دور ایک غار میں رہتے تھے اور ستر سال سے بیمار تھے۔ رسولوں کی دعا سے شفا پائی تھی اور تنہائی میں رب کی عبادت کرتے تھے۔
جب انہیں پتہ چلا کہ قوم نبیوں کے قتل پر تل گئی ہے، تو وہ کمزور اور مسکین شخص دوڑتا ہوا مجمعے میں آیا اور پکار اٹھا:
“اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو! ایسے لوگوں کے پیچھے چلو جو تم سے کوئی اجرت، کوئی فیس، کوئی نذرانہ نہیں مانگتے اور وہ خود سیدھی راہ پر ہیں۔”
سامعین! کسی رہبر میں دو باتیں دیکھنی چاہئیں:
وہ خود ہدایت یافتہ اور سچا ہو۔
وہ لالچی اور طامع نہ ہو، بے لوث ہو۔
پھر حبیب نجار کا حکمتِ تبلیغ دیکھیے! انہوں نے یہ نہیں کہا کہ “تم کیوں نہیں پوجتے؟” بلکہ بات اپنے اوپر رکھ کر کہی تاکہ ان کی انا مجروح نہ ہو اور سوچنے کا موقع ملے:
“وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي” (اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس ذات کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے؟ اور اسی کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے!)
پھر سرِ عام جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے للکار کر کہا:
“إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ” (اے لوگو! سن لو، میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں!)
8. آیت نمبر 26 تا 27 (حبیب نجار کی شہادت اور دخولِ جنت):
تلاوت:
قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ۞ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ
بیان و تفہیم:
جب حبیب نجار نے یہ اعلان کیا، تو ظالم قوم جو پتھر پیغمبروں پر برسانے لائی تھی، وہ حبیب نجار پر ٹوٹ پڑی۔ کسی نے انہیں پیروں تلے روندا، کسی نے آرا چلا کر جسم چیر دیا، کسی نے پتھروں تلے دبا دیا۔
ابھی ظالم ان کے جسم کی بوٹیاں نوچ ہی رہے تھے کہ روح پرواز کر گئی اور ادھر سے آواز آئی:
“قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ” (فرما دیا گیا: داخل ہو جاؤ جنت میں!)
سبحان اللہ! کیسی شہادت ہے جس کے گواہ تین نبی ہیں اور استقبال کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں! لیکن اس مردِ باخدا کی خیرخواہی کا عالم دیکھیے! جنت میں پہنچ کر بھی اپنی قوم کے لیے تڑپ رہا ہے اور کہتا ہے:
“قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ۞ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ”
(کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا کہ میرے رب نے مجھے کیسی بخشش سے نوازا ہے اور مجھے کیسی عزت و تکریم عطا فرمائی ہے!)
یعنی وہ جان لیتے تو ان نبیوں پر پتھر برسانے کی بجائے ان کے قدم چوم لیتے۔
9. آیت نمبر 28 تا 29 (قوم پر عذاب – صَیحَہ):
تلاوت:
وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ جُنْدٍ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِينَ ۞ إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ
بیان و تفہیم:
ارشاد ہوتا ہے: “اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی۔ وہ تو بس ایک ہی بھیانک چیخ تھی، جس کے ہوتے ہی وہ سب کے سب بجھ کر راکھ ہو گئے۔”
مفسرین فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے حبیب نجار کے ساتھ ان پیغمبروں کو بھی شہید کر دیا، تو اللہ کا غضب حرکت میں آیا۔ اللہ کو اس بستی کو تباہ کرنے کے لیے فرشتوں کی فوجیں اتارنے کی حاجت نہ تھی۔ حضرت جبرائیل امینؑ تشریف لائے، شہر کے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر ایسی ہولناک چیخ ماری کہ لوگوں کے پتے پانی ہو گئے، زندگی کی حرارت چھن گئی اور وہ ایسے ڈھیر ہو گئے جیسے بجھی ہوئی راکھ ہوتی ہے!
(نوٹ: یہاں میدانِ بدر اور جنگِ احزاب کا تقابل بیان کیا جا سکتا ہے کہ وہاں فرشتے کافروں کو مارنے نہیں، بلکہ حضورﷺ کے لشکر کے پروٹوکول اور اکرام کے لیے لشکر در لشکر اتارے گئے تھے)۔
10. آیت نمبر 30 تا 32 (یا حسرۃ علی العباد اور دوسرے رکوع کا اختتام):
تلاوت:
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۞ أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ ۞ وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ
بیان و تفہیم:
آیت 30:
“يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ” (ہائے افسوس ان بندوں کے حال پر! ان کے پاس جو بھی رسول آتا ہے، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے ہیں!)
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ کس کا قول ہے؟
یا تو یہ خود ان ہلاک ہونے والے کافروں کا حسرت بھرا اعتراف ہے کہ جب عذاب دیکھا تو پچھتاوے سے بول اٹھے۔
یا فرشتوں کا نوحہ ہے ان کی بدنصیبی پر۔
یا خود باری تعالیٰ بندوں کی اس محرومی اور حماقت پر اپنے غیظ و افسوس کا اظہار فرما رہا ہے کہ جو چراغِ ہدایت بن کر آئے تھے، تم نے اپنے ہاتھوں سے انہیں بجھا دیا۔
شعر:
لوٹ کر بھی کوئی بے چین رہا
اور لٹ کے بھی چین سے سویا کوئی!
ظالموں نے حبیب نجار کو مار کر بھی تباہی سمیٹی، اور حبیب نجار جان دے کر بھی ابدی چین پا گئے۔
آیت 31:
“أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ”
(کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، جو اب کبھی پلٹ کر دنیا میں واپس نہیں آئیں گی؟)
فرعون گئے، نمرود گئے، قیصر و کسریٰ اور سکندر گئے، ان کے محلات کھنڈر بن گئے مگر وہ پلٹ کر نہ آ سکے۔ دنیا پر ان کے نام و نشان مٹ گئے، لیکن محمدِ عربیﷺ کے غلام بلال حبشیؓ کا نام آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
آیت 32 (رکوع کا اختتام):
“وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ”
(اور نہیں ہے کوئی گروہ مگر سارے کے سارے اکٹھے ہو کر ہمارے دربار میں پیش کیے جائیں گے!)
سامعینِ محترم! وہ عذابِ دنیاوی تو صرف ایک وقتی سزا تھی۔ اصل حساب کا میدان ابھی سجنا باقی ہے! کل قیامت کا دن ہوگا، میزان نصب ہوگی۔ حبیب نجار اور انبیاء کے سروں پر عزتوں کے تاج ہوں گے اور ان پر پتھر برسانے والے اور تضحیک کرنے والے طوق و سلاسل میں جکڑے ہوئے اللہ کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ حق بالآخر غالب ہو کر رہے گا اور باطل ہمیشہ کے لیے خسارے میں جائے گا۔
دعا و اختتام:
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ، وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

Leave a Comment