خطبہ مسنونہ:
Arabic
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ،
وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا،
مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ۔
وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،
جَلَّ عَنِ الشَّبِيهِ وَالنَّظِيرِ، وَتَنَزَّهَ عَنِ الشَّرِيكِ وَالْمُشِيرِ،
لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَسَنَدَنَا، وَمَوْلَانَا وَمَأْوَانَا، وَحَبِيبَنَا وَطَبِيبَ قُلُوبِنَا،
وَشَفِيعَ ذُنُوبِنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،
صَفِيُّهُ مِنْ خَلْقِهِ وَخَلِيلُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا،
وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا وَّقَمَرًا مُّنِيرًا۔
صَلَّى اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ عَلَيْهِ وَعَلَىٰ آلِهِ الْمُطَهَّرِينَ،
وَأَصْحَابِهِ الْمُنْتَجَبِينَ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ،
وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ،
وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا دَائِمًا أَبَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ۔
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ:
﴿يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي۔
سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ۔
خطیبانہ و فکری آغاز:
حضراتِ گرامی قدر، علمائے ذوی الاحترام اور اربابِ فہم و بصیرت!
آج کی اس پُرنور، متبرک اور علمی نشست میں ہم جس کلام کے حضور زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، وہ کائنات کے خالق و مالک، قہار و جبار، رحیم و غفار کی وہ کتابِ لاریب ہے جس کا تعارف خود پروردگار نے یوں کرایا:
﴿
لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴾ (حم السجدۃ: 42)
علمائے اصولِ تفسیر اور ائمۂ بلاغت اس بات پر متفق ہیں کہ قرآنِ کریم کوئی بے ربط مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک ایک کلمہ، ایک ایک حرف اور اس کی ایک ایک آیت اپنے مابعد اور ماقبل کے ساتھ ایسے پیوست ہے جیسے موتیوں کے ہار میں لڑی پروئی جاتی ہے۔ اس معجزاتی رابطے کو ائمہ نے “علمِ نظمِ قرآن” کے نام سے موسوم کیا ہے۔
امام فخر الدین رازی مفاتیح الغیب میں، علامہ برہان الدین بقاعی اپنی شاہکار تصنیف نظم الدرر في تناسب الآيات والسور میں، اور برصغیر کے عظیم مفکر شاہ ولی اللہ دہلوی الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں لکھتے ہیں کہ
قرآنِ مجید کے اعجاز کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ اس کی ترتیبِ توقیفی کے اندر حکمتوں کے ایسے سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں جن کی تہہ تک عام انسانی شعور کا پہنچنا ناممکن ہے۔
اور جب ہم قرآن کی مکی سورتوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ مکہ کا دور دراصل “انسانی ضمیر کی تعمیرِ نو کا دور” تھا۔ یہ وہ دور تھا جب انسانیت نے اپنے رب کو بھلا دیا تھا، اخلاقیات تار تار تھیں، عقل پر تعصب اور ابوجہلی ہٹ دھرمی کے قفل چڑھے ہوئے تھے، اور پوری انسانی تہذیب گل سڑ کر سکرات کے عالم میں تھی۔ ایسے ماحول میں مکی سورتیں وحیِ الٰہی کے ایسے کوڑے بن کر اتریں جنہوں نے شرک، مادیت اور تکبر کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔
سورۃ یٰس کا مقام اور اس کے فضائل کی محدثانہ تحقیق:
اہلِ علم جانتے ہیں کہ قرآنِ مجید کا اگر کوئی سب سے شاندار تاج ہے تو وہ مکی سورتیں ہیں، اور مکی سورتوں کے تاج میں جو ہیرا سب سے زیادہ درخشاں و تاباں ہے، وہ سورۃ یٰس ہے!
امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب الإتقان في علوم القرآن اور علامہ ابن کثیر نے تفسیر القرآن العظیم میں اس سورت کی مکی حیثیت پر اجماع نقل کیا ہے۔
حدیثِ مبارک میں رسولِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا، وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس، وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ»
(جامع الترمذی: 2887، سنن الدارمی: 3460)
ترجمہ: بے شک ہر شے کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یٰس ہے، اور جس نے ایک بار سورۃ یٰس کی تلاوت کی، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں دس مرتبہ مکمل قرآن پڑھنے کا ثواب درج فرما دیتا ہے۔
علمی نکتہ: اس سورت کو “قلبِ قرآن” کیوں کہا گیا؟
یہاں امام بیضاوی، ملا علی قاری مرقاۃ المفاتیح میں اور علامہ آلوسی روح المعانی میں ایک لطیف عقلی اور کلامی نکتہ بیان فرماتے ہیں:
وہ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم میں “دل” (قلب) کا کام کیا ہے؟
دل پورے جسم کو خون سپلائی کرتا ہے۔ اگر دل حرکت بند کر دے تو اعضاء سلامت رہنے کے باوجود انسان لاشہ بن جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح اسلام کے جس قدر بنیادی عقائد ہیں، جن پر انسانی نجات کا دارومدار ہے، وہ تین ہیں:
عقیدۂ توحید (Theology/Monotheism)
عقیدۂ رسالت (Prophethood/Risalah)
عقیدۂ معاد یا آخرت و قیامت (Eschatology/Resurrection)
اب آپ سورۃ یٰس کی تراکیب اور فکری ڈھانچے پر غور کیجیے!
اس سورت کا پہلا رکوع عقیدۂ رسالت کی حتمی، عقلی اور نقلی دلیل پیش کرتا ہے۔
اس سورت کا دوسرا اور تیسرا رکوع عقیدۂ توحید کے آفاقی و انفسی دلائل (Cosmological and Teleological Arguments) پر مشتمل ہے۔
اور اس سورت کا آخری حصہ عقیدۂ معاد، یعنی انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، اعضاء کی گواہی اور صور پھونکے جانے کی ایسی لرزہ خیز تصویر کشی کرتا ہے جس سے روح کانپ اٹھتی ہے!
چونکہ ایمان کے ان تینوں بنیادی ارکان کو اس سورت کے اندر اس طرح جذب کر دیا گیا ہے جیسے بیج میں درخت پوشیدہ ہوتا ہے، اسی لیے زبانِ نبوت نے اسے “قلبِ قرآن” کا نام دیا!
اور مسندِ احمد (حدیث: 16521) اور سننِ ابی داؤد (حدیث: 3121) میں حضرت معقل بن یسارؓ سے مروی ہے، آقا ﷺ نے فرمایا:
«اقْرَؤُوهَا عَلَىٰ مَوْتَاكُمْ»
(اس سورت کی اپنے قریب المرگ اور اموات پر تلاوت کیا کرو!)
امام ابن حبان اور حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جاں کنی (سکراتِ موت) کے وقت جب شیطان انسان کے ایمان پر آخری اور جان لیوا حملہ کر رہا ہوتا ہے، اس وقت جب سورۃ یٰس کے توحید، رسالت اور قیامت کے مضامین اس کے کانوں میں گونجتے ہیں، تو مرنے والے کا عقیدہ مضبوط ہو جاتا ہے اور روح کی پرواز آسان ہو جاتی ہے۔
آج کی اس پُرنور محفل میں ہمارا موضوعِ خطاب اسی عظیم الشان سورت کا پہلا رکوع ہے، جو 12 آیات پر محیط ہے۔ یہ بارہ آیات دراصل کفر کے اندھیروں کے خلاف اسلام کی طرف سے داغا گیا ایک فکری اور نظریاتی ایٹم بم ہیں! آئیے، اب ہم لفظ بہ لفظ، آیت بہ آیت اس بحرِ عمیق میں غوطہ لگاتے ہیں۔
﴿يس﴾
حضرات! یہ قرآن کا وہ مقام ہے جہاں بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے۔
علمائے نحو اور متکلمین کے نزدیک یہ لفظ “حروفِ مقطعات” میں سے ہے۔ مقطعات “قطع” سے بنا ہے، یعنی وہ حروف جنہیں ملا کر پڑھنے کے بجائے الگ الگ جدا کر کے پڑھا جائے۔ آپ اسے “یَس” نہیں پڑھ سکتے، بلکہ تجوید اور قراءت کا متفقہ قاعدہ ہے کہ اسے “یا۔ سین” پڑھا جائے گا۔
اس ایک کلمے کے مفہوم، اس کی حیثیت اور اس کی حکمت میں ائمۂ سلف اور خلف کے ہاں آٹھ بڑے کلامی اور لسانی اقوال موجود ہیں، جنہیں علامہ قرطبی نے الجامع لأحکام القرآن میں اور امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں مرتب کیا ہے:
1. قولِ اول: سرِّ الٰہی (The Divine Mystery)
جمہور صحابہ جن میں امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق، خلیفۃ المسلمین علی المرتضیٰ، حبر الامۃ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں، فرماتے ہیں:
«إِنَّ لِكُلِّ كِتَابٍ سِرًّا، وَسِرُّ الْقُرْآنِ حُرُوفُ الْمُقَطَّعَاتِ»
ترجمہ: کائنات کی ہر الہامی کتاب کا ایک راز ہوتا ہے، اور قرآنِ مجید کا سرّ و راز یہ حروفِ مقطعات ہیں۔
یہ وہ “متشابہات” ہیں جن کا حقیقی علم اللہ نے اپنی ذات کے ساتھ خاص رکھا ہے اور ان پر بن دیکھے ایمان لانا انسان کی بندگی اور عاجزی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ عقلِ انسانی کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تیری حدود یہیں تک ہیں، ہر چیز تیرے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتی!
2. قولِ دوم: عرب کے لسانی تکبر کا محاکمہ (Linguistic Challenge)
امام خلیل بن احمد فراہیدی، امام سیبویہ، اور مبرد (جو عربی زبان و نحو کے اساطین ہیں) فرماتے ہیں کہ قریشِ مکہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ محمد (ﷺ) یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورتوں کے شروع میں یہ کلمات لا کر ان کے غرور پر کاری ضرب لگائی۔ فرمایا: “یا۔ سین”۔ اے عرب کے شاعروں، خطیبوں اور عکاظ کے میلوں میں فصاحت کے جھنڈے گاڑنے والو! جن اٹھائیس حروفِ تہجی سے تم اپنے قصیدے، ہجو اور شعر بناتے ہو، میرا قرآن بھی انہی حروف کا مرکب ہے۔ اگر محمد (ﷺ) اپنی طرف سے بناتے ہیں تو تم بھی تو عرب ہو، تمہارے پاس بھی لغت ہے، تم انہی “یا” اور “سین” کو ملا کر اس جیسا ایک ہی رکوع، ایک ہی سورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دو!
چنانچہ چودہ صدیاں بیت گئیں، کفر کی توانائیاں خاک میں مل گئیں، لیکن وہ قرآن کے ایک جملے کا جواب نہ لا سکے۔ ان کا عاجز آ جانا ہی اس کلام کے “منزل من اللہ” ہونے کا قطعی ثبوت ہے۔
3. قولِ سوم: لغتِ حبشہ اور “انسانِ کامل”
تفسیر ابن جریر طبری میں حضرت سعید بن جبیرؓ، عکرمہ اور امام ضحاک سے مروی ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے قدیم قبائل، اور بالخصوص حبشہ اور حمیر کی قدیم سریانی و عربی بولیوں میں “یاسین” کا مادہ “یا إنسان” ہے۔
یعنی اس کا معنی ہے: “اے انسان!”
لیکن یہاں علمِ کلام اور تصوفِ شرعی کا نکتہ دیکھیے! یہاں “انسان” سے مراد کوئی گلی کوچوں میں پھرنے والا عام انسان نہیں ہے، بلکہ یہاں “الف لامِ استغراق” یا “عہدِ خارجی” کے ساتھ انسانیت کا وہ خلاصہ مراد ہے جس کے قدموں کی دھول کو اللہ نے کائنات کا تاج بنا دیا، یعنی: جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ!
اقبال نے اسی حقیقت کو اپنے انداز میں کہا تھا:
کارِ بزمِ دہر کی مجھ پر حقیقت کھل گئی
اک تو ہی مونس ہے میرا، باقی سب افسانہ ہے!
4. قولِ چہارم: اسمِ گرامیٔ رسولِ معظم ﷺ
قاضی عیاض مالکی اپنی لازوال کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفى میں، امام ابن حجر عسقلانی اور امام بیہقی نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو مختلف اسمائے صفاتی و ذاتی سے نوازا ہے۔
کہیں “یَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ”، کہیں “یَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ”، کہیں “طٰهٰ” اور یہاں ارشاد فرمایا: “یس!”۔
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: “یس” کا معنی ہے: “یا سیدَ ولدِ آدم” (اے تمام بنی نوع انسان کے سردار!)۔
امام جعفر صادقؒ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اس نام سے پکار کر صیغۂ راز میں وہ محبت کا پیغام دیا جسے صرف پکارنے والا جانتا ہے یا جس کو پکارا گیا وہ جانتا ہے!
5. قولِ پنجم: اسمٌ من أسماءِ اللّٰہ (اسمِ الٰہی)
امام مالکؒ سے ایک روایت منقول ہے کہ “یس” اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک اسمِ جلیل ہے۔ اور یہاں “یا” حرفِ ندا نہیں بلکہ “حرفِ قسم” ہے، یعنی: “یس (خدا کی ذات) کی قسم، اور قرآنِ حکیم کی قسم!”۔
6. قولِ ششم: کلامی تسلیم و رضا کا اظہار
امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ جب قرآن نازل ہوتا تھا تو مشرکین کہتے تھے: ﴿لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ﴾ (اس قرآن کو مت سنو اور شور مچاؤ!)۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے کلمات نازل فرمائے جن کی چاشنی، صوتی آہنگ (Phonetics) اور نویکلی چوٹ نے مشرکین کو دم بخود کر دیا۔ وہ حیرت سے رک جاتے تھے کہ یہ کیسا کلام ہے جو ہمارے تمام لسانی اوزان سے بالا تر ہے!
7 و 8. اقوالِ صوفیاء و اربابِ اعداد:
بعض مفسرین نے علمِ بسط اور اعدادِ ابجد کے اعتبار سے “یا” اور “سین” کے اشارات بیان کیے ہیں (یا کے 10 اور سین کے 60، جو کائنات کے 70 مراتبِ وجود کو محیط ہیں)، تاہم محققین اور محدثین کے نزدیک سلف کا وہ موقف ہی راجح ہے جو اسے بارگاہِ رسالت کی نعت اور ذاتِ محمدی ﷺ سے ربِ کائنات کا پُرشکوہ خطاب قرار دیتا ہے۔
نحوی باریکی:
کوفی نحویوں (امام کسائی اور فراء) کے نزدیک “یس” پر ایک آیت مکمل ہوتی ہے، اس پر وقفِ تام ہے۔ جبکہ بصری نحویوں (امام سیبویہ اور زجاج) کے نزدیک یہ بعد والی قسم “وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ” کے ساتھ مل کر ایک مرکب بنتا ہے۔
﴿وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
1. فلسفۂ قسم اور “الحکیم” کا الٰہیاتی و نحوی تجمیع:
یہاں اللہ تعالیٰ نے واؤِ قسمیہ کے ساتھ قسم کھائی: “وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ”۔
امام ابن القیم الجوزیہ نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب التبيان في أيمان القرآن میں ایک فقید المثال کلامی قاعدہ مرتب کیا ہے:
وہ فرماتے ہیں کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو وہ اپنے سے بڑی ہستی کی قسم کھاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کی قسم کھاتا ہے تو اس کے دو عظیم مقاصد ہوتے ہیں:
مُقْسَمٌ بِہٖ (جس چیز کی قسم کھائی گئی) کی غیر معمولی شان اور عظمت کا اعلان کرنا۔
اس پر قسم کھا کر اس کے ذریعے بعد والی بات یعنی “مُقْسَمٌ عَلَیْہِ” (جوابِ قسم) پر ایک ایسی برہانی اور مسکت دلیل قائم کرنا جس کو جھٹلانا ناممکن ہو جائے۔
یہاں اللہ نے قسم کس کی کھائی؟ “الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ”۔
“الحکیم” عربی لغت میں “فَعِيل” کے وزن پر صفتِ مشبہ کا صیغہ ہے۔ ائمۂ لغت لکھتے ہیں کہ اس کے دو بنیادی اور کلامی معانی ہیں:
پہلا معنی: حَاکِم اور مُحْکِم (The Decisive & Incorruptible): یعنی وہ کتاب جو اپنے فیصلوں میں قطعی اور حتمی ہے، اور جس کا نظم ایسا مضبوط اور محکم ہے کہ نہ کوئی تضاد تلاش کیا جا سکتا ہے، نہ کوئی سقم۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ﴾ (ہود: 1)۔
دوسرا معنی: ذُو الْحِكْمَةِ (The Embodiment of Wisdom): یعنی وہ کلام جس کا ہر لفظ، ہر قصہ، ہر حلال و حرام کا قانون اور ہر وعدہ و وعید حکمت کے اس اوجِ کمال پر ہے جہاں انسانی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔
2. علمِ کلام کی عدالت: قرآن نبوت کی حتمی دلیل کیسے؟
اب ذرا کلامی باریکی دیکھیے! کفارِ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلایا۔ انہوں نے کہا: ﴿لَسْتَ مُرْسَلًا﴾ (اے محمد! تم رسول نہیں ہو)۔
اگر دنیا کی کوئی عدالت ہوتی تو دعوے کو ثابت کرنے کے لیے باہر سے گواہ لائے جاتے۔ کفار مطالبہ کرتے تھے کہ آسمان سے فرشتہ اترے جو ہمارے سامنے گواہی دے، یا ہمارے مردے زندہ ہو کر بولیں کہ محمد سچے ہیں۔
لیکن اللہ رب العزت نے ان تمام سطحی مطالبات کو رد کرتے ہوئے اپنی کتابِ حکیم کی قسم کھا کر فرمایا:
“اے مکہ کے نادانو! تمہیں محمد (ﷺ) کی نبوت کو پرکھنے کے لیے باہر سے کسی فرشتے کی گواہی کی ضرورت نہیں، محمد کے سچے رسول ہونے کی سب سے بڑی گواہی یہ قرآن ہے جو ان کی زبان سے جاری ہو رہا ہے!”
امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں:
ایک ایسا انسان جس نے دنیا کے کسی مدرسے کا منہ نہیں دیکھا، جس نے بابل، نینویٰ، یونان اور روم کے فلسفیوں کے آگے زانو نہیں ٹیکے، جو ایک مکمل اُمّی معاشرے میں چالیس سال تک رہا جہاں جہالت کا راج تھا—وہ انسان چالیس سال کے بعد اچانک ایک ایسا کلام لے کر آتا ہے جو عرب کے خطیبوں کے لبوں پر تالے لگا دیتا ہے؛ جو کائنات کی تخلیق کے راز بتاتا ہے؛ جو موسیٰ، عیسیٰ، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی گمشدہ تاریخ کو ایسے بیان کرتا ہے جیسے ان کے سامنے کھڑا رہا ہو؛ اور جو زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسا معاشی، سیاسی اور سماجی نظام پیش کرتا ہے جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی قانون نہیں کر سکتا!
عقلِ سلیم فیصلہ کرے کہ کیا یہ کلام اس اُمّی کا ذاتی تخیل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! پس جو اتنی بڑی “کتابِ حکمت” لایا ہے، وہ لا محالہ اللہ کا “رسولِ برحق” ہے!
3. آیت 3 کی بلاغت پر اربابِ دانش کا سر دھننا:
code
Arabic
﴿إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾
علم البلاغۃ کے ائمہ (علامہ تفتازانی مختصر المعانی میں اور خطیب قزوینی التلخیص میں) لکھتے ہیں کہ عربی زبان میں کلام کی تین قسمیں ہوتی ہیں:
ابتدائی: مخاطب کے ذہن میں کوئی شک نہ ہو، تو سادہ جملہ بولا جاتا ہے: “أَنْتَ مُرْسَلٌ”۔
طلبی: مخاطب کو تھوڑا تردد ہو، تو ایک تاکید لائی جاتی ہے: “إِنَّكَ مُرْسَلٌ”۔
انکاری: مخاطب کھلم کھلا انکار اور عناد پر اتر آئے، تو کلام میں متعدد تاکیدی ہتھیار لائے جاتے ہیں۔
یہاں روئے زمین کے کافر رسولِ کونین ﷺ کی نبوت کا کھلم کھلا انکار کر رہے تھے۔ اللہ نے ان کے انکار کو کچلنے کے لیے اس ایک جملے میں چار تاکیدی درجات جمع فرمائے:
پہلی تاکید: جملہ اسمیہ لایا گیا، جو عربی گرامر میں ثبوت، دوام اور استمرار (Permanence) پر دلالت کرتا ہے (کہ آپ کی رسالت وقتی نہیں، ابدی ہے!)۔
دوسری تاکید: حرفِ مشبہ بالفعل “إِنَّ” داخل کیا، جو شک کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔
تیسری تاکید: اپنے حبیب کو ضمیرِ مخاطب “كَ” کے ساتھ پکارا (براہِ راست گفتگو کا شرف بخشا)۔
چوتھی تاکید: “المرسلین” پر “لامِ مزحلقہ” (لَمِنَ) داخل کیا، جو کلامِ عرب میں تاکید کی آخری انتہا مانی جاتی ہے!
یعنی اے میرے محبوب! زمین کے یہ مٹی کے پتلے اگر آپ کا انکار کرتے ہیں تو کرتے رہیں، عرشِ اعظم کے اوپر سے آپ کا رب چار گنا تاکید کے ساتھ یہ حلف اٹھا رہا ہے کہ آپ ہی تمام رسولوں کے سرخیل اور رسولِ برحق ہیں!
4. آیت 4: “عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ” کا نحوی اور اخلاقی اعجاز:
یہاں فرمایا: ﴿عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ قرآن کے حروف بے مقصد نہیں ہوتے۔ یہاں حرفِ جر “عَلَىٰ” استعمال ہوا۔
عربی نحو میں “علیٰ” استعلاء، تمکن اور غلبے کے لیے آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: “إِلَىٰ صِرَاطٍ” (کہ آپ راستے کی طرف بلا رہے ہیں)، بلکہ فرمایا: “عَلَىٰ صِرَاطٍ”، یعنی آپ بذاتِ خود اس صراطِ مستقیم کے اوپر اس جلالت اور استقامت کے ساتھ متمکن اور قائم ہیں کہ آپ کی زندگی کا ہر سانس اس راستے کا سنگِ میل بن چکا ہے!
اور “صراطِ مستقیم” کیا ہے؟
ارسطو نے اپنی اخلاقیات (Nicomachean Ethics) میں لکھا تھا کہ فضیلت دو انتہاؤں کے درمیان کا نام ہے۔ لیکن ارسطو کا نظریہ صرف خیالی تھا۔ دنیا کو عملی میزان محمد مصطفیٰ ﷺ نے عطا فرمایا۔
ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں:
یہ وہ راستہ ہے جس میں عیسائیت کی رہبانیت اور ترکِ دنیا کی انتہا پسندی بھی نہیں، اور یہودیت کی مادہ پرستی، دنیا طلبی اور سنگدلی بھی نہیں۔
یہ وہ راستہ ہے جو انسان کے باطن کی طہارت بھی کرتا ہے اور میدانِ جنگ میں شجاعت کے جوہر بھی دکھاتا ہے۔
جو محراب و منبر کا بھی راستہ ہے اور سیاست و عدالت کا بھی راستہ ہے۔
یہ انسان کی روح اور مادے، دنیا اور آخرت کے درمیان ایک مکمل، عادلانہ توازن کا نام ہے۔
حصہ چہارم (90 تا 125 منٹ): آیات 5 اور 6 — عزیز و رحیم کا امتزاج، تنزیل بمقابلہ انزال، اور مسئلہ اہلِ فترت کا علمی محاکمہ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
code
Arabic
﴿تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾
1. اعرابی تحقیق اور الٰہیاتی توازن (Theological Balance):
سب سے پہلے اس کا اعراب دیکھیے: کلمہ “تَنزِيلَ” پر نصب (زبر) کیوں ہے؟
امام عبد القاہر جرجانی اور علامہ زمخشری الکشاف میں لکھتے ہیں:
یہ مفعولِ مطلق ہے ایک محذوف فعل کا، یعنی: نَزَّلَهُ اللّٰهُ تَنْزِيلًا (اللہ نے اس کلام کو خاص اہتمام کے ساتھ تدریجاً نازل کیا ہے)۔ یا یہ اپنے ماقبل سے حال بن رہا ہے۔
اب ان دو اسماءِ حسنیٰ کے تقابل پر غور کیجیے: “الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ”۔
اللہ کے تمام صفاتی ناموں میں سے یہاں ان دو ناموں کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
“العزیز” جلال، قہر، غلبے، اور انتقام کی صفت ہے۔ یعنی وہ ذات جو سب پر غالب ہے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، اور جو اپنے نافرمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر قادر ہے۔
“الرحیم” جمال، رحمت، عفو، بخشش اور شفقتِ بے پایاں کی صفت ہے۔
علم الکلام کا یہ بنیادی ضابطہ ہے کہ جہاں تنہا جلال کا ذکر ہو، وہاں انسان مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے، اور جہاں صرف رحمت کا ذکر ہو، وہاں انسان نڈر اور گناہوں پر دلیر ہو جاتا ہے۔
قرآن نے دونوں کو یکجا کر کے قانونِ قدرت کا اعلان کر دیا:
“اے انسانو! یہ کلام اس ہستی کا اتارا ہوا ہے جو اتنی طاقتور ہے کہ اگر تم نے اس کلام سے بغاوت کی تو اس کی گرفت سے تمہیں کائنات کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی، مگر اس کے ساتھ وہ اتنا رحیم و شفیق بھی ہے کہ اگر تم زندگی بھر کے گناہوں کے بعد بھی اس قرآن کے دامن میں پناہ لے لو، تو وہ تمہارے سارے گناہ معاف کر کے تمہیں اپنی آغوشِ رحمت میں چھپا لے گا!”
2. علومِ قرآن کا شاہکار نکتہ: “اِنْزَال” اور “تَنْزِیْل” کا جوہری فرق:
قرآن میں دو الفاظ بار بار آتے ہیں: ایک ہے “اِنزال” اور دوسرا ہے “تنزیل”۔
انزال (باب افعال): لغت میں انزال کہتے ہیں کسی شے کو ایک ہی دفعہ بیک وقت اوپر سے نیچے اتار دینا۔ جیسا کہ سورۃ القدر میں فرمایا: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾۔ یہاں انزال اس لیے لائے کہ لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر (بیت العزۃ میں) پورا قرآن ایک ہی رات میں اتار دیا گیا تھا۔
تنزیل (باب تفعیل): اس کے اندر عربی زبان کے قاعدے کے مطابق “تدریج اور کثرت” پائی جاتی ہے۔ یعنی کسی چیز کو ضرورت کے مطابق، وقفے وقفے سے، تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا۔
یہاں اللہ نے فرمایا: “تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ”۔ یعنی یہ کلام 23 سال کے طویل عرصے میں، امت کے شب و روز کے واقعات، نفسیاتی تبدیلیوں اور پیش آمدہ مسائل کے عین مطابق نازل کیا گیا تاکہ یہ انسانی قلوب میں رچ بس جائے، ان کے باطن کو جلا بخشے اور ایک مستقل فکری و عملی انقلاب برپا کر دے!
3. آیت 6 اور “مسئلہ اہلِ فترت” پر کلامی معرکہ:
آیت 6 میں فرمایا:
code
Arabic
﴿لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾
(تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا تھا، اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں)۔
یہاں علمِ عقائد اور کلام کا ایک انتہائی نازک، پیچیدہ اور معرکۃ الآراء مسئلہ پیدا ہوتا ہے جسے ائمۂ کلام “مسئلۃُ أھلِ الفترۃ” کہتے ہیں۔
“فترت” کا معنی ہے دو رسولوں کے درمیان کا وہ درمیانی دور جس میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد سے لے کر سرورِ کائنات ﷺ کی بعثتِ مبارکہ تک تقریباً چھ سو سال کا طویل عرصہ گزرا جس میں عرب کی سرزمین پر کوئی باقاعدہ پیغمبر تشریف نہیں لایا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک کسی نبی کی دعوت نہیں پہنچی، اور وہ شرک اور بت پرستی کی حالت میں مر گئے، کیا کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کا مواخذہ فرمائے گا یا نہیں؟
اس مسئلے پر امتِ مسلمہ کے ائمہ کے تین بڑے مکاتبِ فکر ہیں:
مسلکِ اشاعرہ (امام ابو الحسن اشعریؒ اور جمہور شوافع و مالکیہ):
ان کا موقف یہ ہے کہ عقل اکیلی کسی چیز کے حسن و قبح (اچھائی اور برائی) کا حتمی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول مبعوث نہ ہو اور وہ شریعت کے احکام نہ پہنچا دے، تب تک کسی قوم پر عذاب نہیں ہو سکتا۔ ان کی سب سے بڑی دلیل سورۃ الاسراء کی یہ آیت ہے:
﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا﴾ (الاسراء: 15)
چنانچہ اشاعرہ کے نزدیک دورِ فترت کے لوگ نجات یافتہ ہیں، یا ان کا قیامت کے دن ایک الگ امتحان لیا جائے گا۔
مسلکِ معتزلہ:
معتزلہ اس کے برعکس کہتے ہیں کہ عقل بذاتِ خود اچھائی اور برائی کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہٰذا، نبی آئے یا نہ آئے، ہر انسان پر صرف اپنی عقل کی بنیاد پر توحید کو ماننا واجب ہے، اور شرک کرنے والا سیدھا جہنم میں جائے گا۔
مسلکِ ماتریدیہ (امام ابو منصور ماتریدیؒ اور جمہور احناف):
یہ موقف سب سے زیادہ معتدل اور وزنی مانا جاتا ہے۔ امام ماتریدی فرماتے ہیں:
احکامِ شریعت—یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، حلال و حرام کی جزئیات—کا علم عقل سے نہیں ہو سکتا، اس کے لیے نبی کا آنا شرط ہے۔ لہٰذا احکام نہ ماننے پر تو اہلِ فترت سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ لیکن جہاں تک کائنات کے خالق کی پہچان (عقیدۂ توحید) کا تعلق ہے، تو اس نیلی چھت، چمکتے سورج، زمین کے فرش اور انسان کے اپنے وجود کے اندر اتنی کھلی نشانیاں موجود ہیں کہ سلیم العقل انسان بت پرستی کے باطل ہونے کو خود سمجھ سکتا ہے۔ پس، بنیادی توحید کے معاملے میں عقل پر حجت قائم ہو چکی تھی۔
اور علامہ جلال الدین سیوطی نے اس موضوع پر نو سے زائد کتب و رسائل لکھے (جیسے مسالک الحنفاء فی نجاۃ آباء المصطفى) اور ثابت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے آباؤ اجداد اور والدینِ کریمین موحد تھے اور وہ دینِ ابراہیمی پر قائم تھے، اور ان کا شمار ان غافلوں میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ توحید کے نور کے حاملین میں سے تھے۔
یہاں قرآن نے فرمایا کہ مکہ کا معاشرہ مسلسل صدیاں انبیاء سے محروم رہنے کی وجہ سے جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا تھا، اور وہ اس غفلت کے دلدل میں پھنس چکے تھے کہ برائی کو نیکی اور ظلم کو اپنا فخر سمجھ بیٹھے تھے۔ اللہ نے اپنے حبیب کو مبعوث فرما کر ان کی اس غفلت کا پردہ چاک کر دیا۔
حصہ پنجم (125 تا 155 منٹ): آیات 7 تا 9 — مسئلہ جبر و قدر، تکبر کے نفسیاتی امراض کی تمثیل، اور شبِ ہجرت کا محاصرہ
اب ہم اس رکوع کے سب سے زیادہ گرجدار، انقلابی اور روح کو لرزا دینے والے حصے میں داخل ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
code
Arabic
﴿لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾
1. کلامی معرکہ: مسئلہ جبر و قدر اور علمِ الٰہی کا انکشاف
آیت 7 میں فرمایا: ﴿لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾۔
(یقیناً ان میں سے اکثر پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہو چکا ہے، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے)۔
یہاں ملحدین، مستشرقین اور باطل فرقے ایک بہت بڑا وسوسہ کھڑا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
“دیکھو! قرآن خود کہہ رہا ہے کہ اللہ نے ان پر پہلے ہی فیصلہ لکھ دیا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ جب خدا نے پہلے ہی ان کے مقدر میں کفر لکھ دیا، تو پھر ان بدبختوں کا کیا قصور؟ اگر وہ ایمان نہیں لائے تو وہ تو خدا کے لکھے ہوئے فیصلے کے پابند تھے! کیا یہ ان پر ظلم نہیں ہے؟” (معاذ اللہ)
اس زہریلے فلسفے کا محکم اور دندان شکن جواب سمجھیے!
علمائے اہلِ السنۃ والجماعۃ، امام رازی، علامہ سعد الدین تفتازانی شرح العقائد النسفیۃ میں، اور امام غزالی احیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ “وہ ایمان نہیں لائیں گے”، یہ ان پر “جبر” (Coercion) نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کے “علمِ ازلی کا انکشاف” (Foreknowledge of God) تھا۔
اس دقیق کلامی نکتے کو ایک عام فہم مثال سے سمجھیے:
ایک شفیق اور انتہائی تجربہ کار پروفیسر اپنی کلاس کے دو طالب علموں کو دیکھتا ہے۔ ایک طالب علم سارا سال محنت کرتا ہے، لائبریری میں بیٹھتا ہے، اسباق یاد کرتا ہے۔ دوسرا طالب علم سارا سال آوارہ گردی کرتا ہے، جوئے اور نشے کے اڈوں پر بیٹھتا ہے، کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتا۔
امتحان سے ایک دن پہلے وہ پروفیسر اپنے رجسٹر میں لکھ دیتا ہے: “پہلا طالب علم فرسٹ ڈویژن میں پاس ہو گا، اور دوسرا طالب علم فیل ہو جائے گا”۔
اگلے دن امتحان ہوتا ہے۔ رزلٹ آتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو استاد نے لکھا تھا: محنتی پاس ہو گیا اور اوباش فیل ہو گیا۔
اب مجھے بتائیے، کیا وہ فیل ہونے والا طالب علم عدالت میں جا کر استاد پر یہ کیس کر سکتا ہے کہ “جناب! میں اپنی نالائقی کی وجہ سے فیل نہیں ہوا، بلکہ میں اس لیے فیل ہوا کہ استاد نے امتحان سے پہلے رجسٹر میں میرے بارے میں ‘فیل’ لکھ دیا تھا؟”
کوئی ذی ہوش عدالت اس کا یہ عذر قبول نہیں کرے گی! عدالت کہے گی کہ استاد کے لکھنے نے تجھے فیل ہونے پر مجبور نہیں کیا تھا، بلکہ استاد نے اپنے وسیع تجربے اور علم کی بنیاد پر تیرے رویے کا نتیجہ پہلے سے بھانپ کر قلمبند کیا تھا!
وللّٰہِ المثلُ الأعلیٰ! کائنات کا پروردگار علام الغیوب ہے۔ اس کے پاس ازل سے ابد تک کا علم ہے۔ اللہ جانتا تھا کہ ہم ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف کو کتنی ہی نشانیاں دکھا دیں، چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دیں، مردے زندہ کر کے دکھا دیں، لیکن ان کی انا، ان کا قبائلی تکبر اور ان کا حسد اس انتہا کو پہنچ چکا ہے کہ وہ سچائی کو جاننے کے باوجود کبھی سرِ تسلیم خم نہیں کریں گے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اپنے آزادانہ اختیار اور ان کے اندرونی بغض کی بنیاد پر اپنے علمِ ازلی کے تحت خبر دی کہ ان پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہو چکا ہے!
2. آیت 8: تکبر کی ہولناک بلاغی و نفسیاتی تمثیل (Psychopathology of Arrogance):
اب ذرا انسانی باطن کا ایکسرے دیکھیے! اللہ تعالیٰ نے ان منکرین کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کو کیسے ایک تصویر میں ڈھالا ہے:
code
Arabic
﴿إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ﴾
علم البلاغہ میں اسے “الاستعارة التمثيلية” کہتے ہیں، یعنی کسی مجرد کیفیت کو حسی اور مادی شکل دے کر انسانی آنکھوں کے سامنے کھڑا کر دینا۔
اس آیت کے تینوں الفاظ کو لغت کے ترازو میں تولیے:
أَغْلَالًا: یہ “غُلّ” کی جمع ہے۔ لغتِ عرب میں غل اس لوہے کے بھاری طوق کو کہتے تھے جس کے ذریعے قیدی کے دونوں ہاتھوں کو گردن کے ساتھ ملا کر ایک ساتھ زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا تھا۔
الْأَذْقَانِ: یہ “ذَقَن” کی جمع ہے، یعنی انسان کی ٹھوڑی۔ جب وہ لوہے کا طوق گردن پر چڑھتا ہے اور ہاتھ سینے سے بندھے ہوتے ہیں، تو وہ لوہا ٹھوڑی کے نیچے اس طرح اڑ جاتا ہے کہ انسان اپنی گردن کو نیچے نہیں جھکا سکتا۔
مُّقْمَحُونَ: یہ “اِقْمَاح” سے مشتق ہے اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔
عرب کی سچی لغت سنیے! لسان العرب میں علامہ ابن منظور لکھتے ہیں:
code
Arabic
«أَقْمَحَ الْبَعِيرُ: إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عِنْدَ الْحَوْضِ وَامْتَنَعَ مِنَ الشُّرْبِ»
(جب اونٹ سخت پیاس کے عالم میں پانی کے حوض پر لایا جائے، لیکن کسی بیماری یا سرکشی کی وجہ سے وہ حوض میں منہ ڈالنے کے بجائے اپنا سر اکڑا کر آسمان کی طرف اٹھا لے اور پیاسا مر جائے!)۔
اللہ اکبر کبیرا! کیا بلاغت کا اعجاز ہے!
اللہ فرماتا ہے: مکہ کے یہ سردار، اور قیامت تک آنے والے تمام متکبرین، دراصل روحانی طور پر اس اکڑے ہوئے اونٹ کی طرح ہیں! ہدایت کا ٹھنڈا، میٹھا، حیات بخش پانی ان کے سامنے موجود ہے، لیکن ان کی جھوٹی انا، ان کا حسب نسب کا گھمنڈ، ان کی دولت اور ان کی ہٹ دھرمی نے ان کی باطنی گردنوں میں تکبر کا نادیدہ لوہے کا طوق چڑھا دیا ہے۔ ان کی ٹھوڑیاں اوپر تنی ہوئی ہیں، ان کی باطنی گردنیں اکڑ چکی ہیں، وہ عاجزی کے ساتھ سچائی کے سامنے جھکنے کی صلاحیت ہی کھو چکے ہیں!
3. آیت 9 اور محاصرۂ نبوی کا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز تاریخی واقعہ:
آیت 9 میں فرمایا:
code
Arabic
﴿وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾
(اور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار کھڑی کر دی اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پس ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، اب انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا)۔
قراءت اور لغت کا نکتہ:
امام عاصم، نافع اور ابن کثیر اسے سین کے زبر کے ساتھ “سَدًّا” پڑھتے ہیں، جبکہ امام حمزہ اور کسائی اسے پیش کے ساتھ “سُدًّا” پڑھتے ہیں۔
لغتِ عرب کے ائمہ لکھتے ہیں:
“سَدّ” (زبر کے ساتھ) اس رکاوٹ اور دیوار کو کہتے ہیں جو انسان اپنے ہاتھوں سے خود بناتا ہے۔
“سُدّ” (پیش کے ساتھ) اس رکاوٹ کو کہتے ہیں جو قدرتی طور پر پہاڑ یا خندق کی طرح حائل ہو جائے۔
یہاں دونوں قراءتیں برحق ہیں! یعنی ان کی اپنی بدنیتی کی خود ساختہ دیوار بھی حائل ہے اور اللہ کی طرف سے ان کی بصیرت سلب کر لینے کی الٰہی دیوار بھی حائل ہو چکی ہے!
ہجرت کی رات کا معجزاتی منظر (سیرت و تاریخ کا جھروکا):
حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں، علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النبی میں، اور ابن ہشام السیرۃ النبویۃ میں نقل کرتے ہیں:
جب کفارِ مکہ نے دار الندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا کہ محمد (ﷺ) کی دعوت کو کیسے ختم کیا جائے؟ ابلیس نجدی شیخ کی شکل میں مشیر بن کر بیٹھا تھا۔ ابو جہل نے ناپاک تجویز پیش کی کہ ہر قبیلے سے ایک ایک خونخوار نوجوان تلوار لے کر نکلے اور سب مل کر بیک وقت محمد (ﷺ) پر وار کریں تاکہ خون تمام قبائل میں بٹ جائے اور بنو ہاشم بدلہ نہ لے سکیں۔
رات کی تاریکی چھا گئی۔ گیارہ منتخب پیشہ ور قاتلوں نے، جن کی تلواریں زہر میں بجھی ہوئی تھیں، رسولِ اکرم ﷺ کے کچے مکان کا گھیراؤ کر لیا۔ وہ دیواروں کی دراڑوں سے جھانک رہے تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ کب نبیِ کائنات سوئیں اور ہم حملہ کریں۔
اندر کا منظر دیکھیے! مصطفیٰ کریم ﷺ ذرا برابر خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ نے شیرِ خدا، سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بلایا اور فرمایا:
“علی! میرے اس بستر پر لیٹ جاؤ اور میری یہ سبز یمنی چادر اوڑھ لو۔ خدا کی قسم! یہ بدبخت تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے!”
یہاں حضرت علیؓ کا ایمان دیکھیے! موت کے دہانے پر، ننگی تلواروں کے سائے میں سو رہے ہیں، اور بعد میں حضرت علیؓ نے فرمایا: “خدا کی قسم! جیسی میٹھی اور بے خوف نیند مجھے اس رات آئی، ویسی نیند زندگی بھر کبھی نہیں آئی!”
اب کائنات کا سلطان ﷺ تن تنہا دروازہ کھول کر باہر آتا ہے۔
نہ آپ کے پاس کوئی تلوار ہے، نہ کوئی مادی ڈھال ہے۔ آپ نے اپنے دستِ مبارک میں بطحاء کے صحرا کی ایک مٹھی خاک اٹھائی۔
آپ پر کوئی اضطراب نہیں تھا۔ آپ کی مقدس زبان پر سورۃ یٰس کی یہی آیات جاری تھیں:
code
Arabic
﴿وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾
اور آپ ﷺ نے وہ خاک ان ظالموں کے چہروں کی طرف اچھال دی۔
اللہ اکبر کبیرا! ادھر مٹھی سے خاک نکلی، ادھر خدا کی قدرت حرکت میں آگئی!
وہ گیارہ خونخوار غنڈے پتھر کے مجسمے بن گئے۔ ان کی پتلیاں پتھرا گئیں، ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، ان کی سماعتیں سلب ہو گئیں۔ آقا کریم ﷺ ان کے درمیان سے، ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے، نہایت وقار کے ساتھ گزر گئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی!
کچھ دیر بعد ایک شخص باہر سے آیا اور اس نے پوچھا: “تم یہاں کس کا انتظار کر رہے ہو؟”
انہوں نے کہا: “ہم اندر محمد کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ان کا خاتمہ کر دیں!”
اس نے قہقہہ لگا کر کہا: “تمہارا بیڑا غرق ہو جائے! محمد تو تمہارے سروں پر مٹی ڈال کر کب کے غارِ ثور کی طرف تشریف لے گئے!”
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اپنے سروں کو دیکھا تو ان کے بالوں سے خاک جھڑ رہی تھی!
قرآن نے ثابت کر دیا کہ خدا جس کی بصیرت سلب کر لے، وہ آنکھیں کھلی رکھنے کے باوجود اندھا ہوتا ہے، اور جس کا محافظ اللہ ہو، اسے دنیا کی تمام تلواریں مل کر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں!
حصہ ششم (155 تا 175 منٹ): آیات 10 تا 12 — سامعِ کامل، خشیتِ بالغیب، اور انسانی اعمال کا ڈیجیٹل کائناتی ریکارڈ
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
code
Arabic
﴿وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ﴾
1. ادَاةُ الْحَصْر اور ہدایت کا سچا حقدار:
آیت 10 میں اللہ نے فرما دیا کہ جنہوں نے اپنے باطن کو ہٹ دھرمی سے بند کر لیا ہے، ان پر آپ کی محنت اثر نہیں کرے گی کیونکہ ان کا کیس ختم ہو چکا ہے۔
پھر آیت 11 میں فرمایا: ﴿إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ﴾۔
عربی زبان میں “إِنَّمَا” حصر کے لیے آتا ہے، یعنی دعوت اور وعظ کا حقیقی فائدہ صرف اور صرف اس شخص کو ہوگا جس کے اندر دو بنیادی اوصاف ہوں:
اتَّبَعَ الذِّكْرَ: جو قرآنِ کریم کی نصیحت کو سن کر اپنی ضد، اپنی پرانی روایات اور اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔
وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ: جو بن دیکھے اپنے رحمان سے ڈرے۔
ایک لاجواب اور دقیق علمی نکتہ:
یہاں قرآن کے الفاظ دیکھیے: فرمایا: “خَشِيَ الرَّحْمٰنَ”۔
غور کیجیے! یہاں اللہ کا نام “الجبار”، “القہار” یا “المنتقم” نہیں لایا گیا۔ ڈرانے کے لیے جلال والی صفات لائی جاتی ہیں، لیکن یہاں فرمایا: “وہ رحمان سے ڈرا!”۔
رحمان سے ڈرنے کا کیا فلسفہ ہے؟
قاضی بیضاوی اور علامہ زمخشری لکھتے ہیں:
عام مجرم پولیس یا قاضی کے عذاب اور ڈنڈے سے ڈرتا ہے۔ لیکن ایک وفادار اور عاشق مزاج بیٹا اپنے باپ کی ناراضگی سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ باپ مارے گا، بلکہ وہ اس لیے ڈرتا ہے کہ کہیں میرے کسی غلط عمل سے میرے شفیق باپ کا دل نہ دکھ جائے!
مومن کا خوف اللہ کی ذات سے کوئی غلامانہ خوف نہیں ہوتا، بلکہ مومن یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ ہائے! میرا وہ پروردگار جو مجھ پر ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے، جس نے مجھے بن مانگے سب کچھ دیا، میں کس منہ سے اس کی نافرمانی کروں؟ کہیں میری اس بدعملی کی وجہ سے میرے پروردگار کی “رحمت کی نظر” مجھ سے نہ پھر جائے!
اور “بِالْغَيْبِ” کا معنی ہے: تنہائی کا تقویٰ!
جب وہ بند کمرے میں ہو، جب موبائل اس کے ہاتھ میں ہو، جب پاس ورڈ کسی کو معلوم نہ ہو، جب بیڈ روم کی لائٹیں بند ہوں اور دنیا کی کوئی آنکھ اسے نہ دیکھ رہی ہو، اس تنہائی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جو اپنے رحمان کی عظمت کو یاد کر کے کانپ اٹھے اور گناہ سے اپنے ہاتھ کھینچ لے—فرمایا: اے نبی! آپ ایسے باحیا، غیور مومن کو پروردگار کی طرف سے بخشش اور عزت والے اجر کی خوشخبری سنا دیجیے!
2. آیت 12: انسانی تاریخ کا عظیم ترین منشور (Resurrection & Digital Legacy):
اب اس رکوع کی آخری آیت پر آئیے، جو انسان کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے:
code
Arabic
﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ﴾
نحوی اعتبار سے: “إِنَّا نَحْنُ”۔ یہاں دو تاکیدی ضمیریں جمع ہیں: “انّا” (ہم) اور “نحن” (ہم ہی)۔ اسے نحو میں “ضمیرِ فصل” کہتے ہیں جو کلام میں حصر پیدا کرتی ہے۔ یعنی مردوں کو دوبارہ زندگی بخشنا صرف اور صرف ہمارا ہی کام ہے، کسی سائنس یا فلسفے کے بس کی بات نہیں!
اور پھر دو اصطلاحات بیان فرمائیں جن پر انسانی زندگی کا پورا فلسفہ قائم ہے:
مَا قَدَّمُوا: وہ اعمال جو انسان نے زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے کیے (نماز پڑھی، چوری کی، سچ بولا، زنا کیا وغیرہ)۔
وَآثَارَهُمْ: “اَثَر” کی جمع ہے، یعنی وہ اثرات، نقوش، روایات اور نتائج جو انسان کے مرنے کے بعد اس دنیا میں باقی رہ گئے۔
بنو سلمہ کا واقعہ اور شانِ نزول:
صحیح مسلم (کتاب المساجد، حدیث: 665) اور جامع الترمذی میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے ارد گرد کچھ زمینیں خالی ہوئیں۔ مدینہ کا ایک قبیلہ تھا جنہیں “بنو سلمہ” کہا جاتا تھا۔ ان کے مکانات مسجدِ نبوی سے کافی فاصلے پر تھے، اور انہیں نماز کے لیے لمبا سفر طے کر کے آنا پڑتا تھا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے مکانات بیچ کر مسجدِ نبوی کے بالکل قریب آ کر آباد ہو جائیں تاکہ ہر نماز باجماعت پڑھنا آسان ہو جائے۔
جب یہ بات رحمتِ دوعالم ﷺ تک پہنچی، تو آپ نے بنو سلمہ کو بلایا اور فرمایا:
code
Arabic
«يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ»
ترجمہ: اے بنو سلمہ! اپنے پرانے گھروں ہی میں مقیم رہو! تم مسجد کی طرف چل کر آتے ہوئے جتنے قدم اٹھاتے ہو، تمہارے اٹھنے والے ہر ہر قدم کا نشان تمہارے نامۂ اعمال میں “آثار” بن کر لکھا جا رہا ہے!
اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم انسان کے ذاتی اعمال بھی لکھتے ہیں اور جو قدموں کے نشانات اور اثرات وہ چھوڑ کر جاتا ہے، ہم ان اثرات کو بھی اپنے پاس درج کر رہے ہیں!
معاصر تطبیق: اکیسویں صدی اور “ڈیجیٹل آثار” (Digital Footprints) کی ہولناکی
حضرات! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر اس آیت کی عصری اور سائنسی معنویت کو سمجھیے!
آج سے چودہ سو سال پہلے “آثار” کا مفہوم کنویں کھدوانا، مسجد بنانا، یا کوئی بری رسم شروع کرنا تھا۔ لیکن آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے دور میں اس آیت کی وسعت اتنی خوفناک حد تک پھیل چکی ہے کہ سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں!
آج سائنس کہتی ہے کہ انسان انٹرنیٹ پر جو کچھ کرتا ہے، اس کا ایک “Digital Footprint” بنتا ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
صحیح مسلم میں حدیث ہے، آقا ﷺ نے فرمایا:
code
Arabic
«مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ… وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ»
(جس نے اسلام میں کوئی اچھا راستہ نکالا، اسے اپنا ثواب بھی ملے گا اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا۔ اور جس نے کوئی برا راستہ نکالا، اس پر اپنا گناہ بھی ہوگا اور بعد میں اس پر چلنے والوں کا گناہ بھی اس کے کھاتے میں جائے گا)۔
آج کے نوجوانو اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والو! کان کھول کر سنو!
اگر کسی بدبخت نے فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام یا ٹویٹر پر کوئی گندی، فحش، بے حیا تصویر یا ویڈیو اپ لوڈ کر دی؛ کسی نے ملحدانہ لٹریچر، گستاخانہ مواد، یا گانوں اور ناچ رنگ کا کلپ وائرل کر دیا؛
وہ شخص مر جائے گا، اس کا جنازہ پڑھا دیا جائے گا، اس کی ہڈیاں قبر کی مٹی میں گل سڑ کر راکھ ہو جائیں گی؛
مگر وہ ویڈیو انٹرنیٹ کے کلاؤڈ سرورز پر چلتی رہے گی! نئی نسلیں اسے دیکھ دیکھ کر گناہ کرتی رہیں گی، کروڑوں لوگ اس سے گمراہ ہوتے رہیں گے، اور ان کروڑوں انسانوں کے گناہوں کا عذاب اس مرنے والے کی قبر کے اندر کائناتی ڈائریکٹ ڈیبٹ بن کر “وَآثَارَهُمْ” کی شکل میں گرتا رہے گا! اس کی قبر جہنم کا گڑھا بنتی رہے گی!
اور اس کے برعکس، اگر کسی خوش نصیب نے سوشل میڈیا پر قرآن کی آیت پھیلا دی، کسی بھٹکے ہوئے کو الحاد کے جال سے نکال کر توحید پر لگا دیا، کسی کو نماز کا طریقہ سکھا دیا، اپنے پیسے سے کسی غریب کے لیے نلکا لگوا دیا یا دینی مکتب قائم کر دیا؛
وہ دنیا سے رخصت ہو جائے گا، مگر جب تک دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کی لگائی ہوئی نیکی سے فیض یاب ہوتا رہے گا، اس کی قبر کے اندر جنت کی ہوائیں اور نور کے فوارے “وَآثَارَهُمْ” بن کر برستے رہیں گے!
اور فرمایا:
code
Arabic
﴿وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ﴾
“أَحْصَيْنَاهُ” نکلا ہے “احصاء” سے۔ عربی میں چھوٹے کنکروں کو “حَصٰی” کہتے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب انسان کے پاس گنتی کے آلات نہیں تھے تو وہ باریک کنکروں کو گن کر تھیلی میں بند کرتا تھا۔ احصاء کا مطلب ہے: کسی چیز کو اتنا باریک بینی سے گننا کہ ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز چھوٹنے نہ پائے!
اور “إِمَامٍ مُّبِينٍ” سے مراد مجاہد، قتادہ اور حسن بصری کے نزدیک “لوحِ محفوظ” ہے۔ یعنی کائنات کے سب سے عظیم الٰہی سپر کمپیوٹر (The Divine Master Ledger) کے اندر تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ، تمہارے دل کے ارادے، تمہاری آنکھوں کی خیانت اور تمہارے پاؤں کی چاپ محفوظ کی جا چکی ہے!
حصہ ہفتم (175 تا 180 منٹ): کلامی و فکری خلاصہ اور رقت آمیز اختتامی مناجات
فکری خلاصہ (Conclusion):
میرے محترم اور معزز بھائیو اور بزرگو!
سورۃ یٰس کے اس پہلے رکوع نے آج کی تین گھنٹے کی تفصیلی علمی نشست میں ہم پر خدا کی حجت تمام کر دی ہے۔
اس نے ہمیں بتا دیا کہ:
ہمارا قرآن شک و شبہے سے بالا تر کتابِ حکمت ہے۔
ہمارا نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کائنات کا سب سے سچا رسول ہے جس کے راستے کے علاوہ نجات کا کوئی راستہ نہیں۔
جو لوگ انا، ضد اور تکبر کے طوق گلے میں ڈالے رکھتے ہیں، ان کے آگے پیچھے کفر کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ زندہ لاشیں بن جاتے ہیں۔
اور ہمارا ایک ایک سیکنڈ، ہماری تنہائیاں، اور ہمارے مرنے کے بعد پیچھے رہ جانے والے اثرات (Legacy) اللہ کی عدالت میں ایک کھلی کتاب کی طرح درج ہو رہے ہیں۔
آئیے! اس سے پہلے کہ ہماری سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جائے، اس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے، اپنے رحمان کے حضور سچے دل سے جھک جائیں۔
رقت آمیز اختتامی دعا و مناجات:
(نہایت عاجزی، رقت اور گریہ و زاری کے ساتھ ہاتھ اٹھائیے)
code
Arabic
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حَمْدًا يُوَافِي نِعَمَهُ وَيُكَافِئُ مَزِيدَهُ،
يَا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ، طِبِّ الْقُلُوبِ وَدَوَائِهَا،
وَعَافِيَةِ الْأَبْدَانِ وَشِفَائِهَا، وَنُورِ الْأَبْصَارِ وَضِيَائِهَا،
وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔
اے کائنات کے تنہا شہنشاہ!
اے العزیز اور الرحیم پروردگار!
اے دلوں کے بھید جاننے والے، اور گناہوں کو معاف فرمانے والے اللہ!
ہم تیرے گناہگار، سیاہ کار، خطا کار اور نالائق بندے تیرے قرآنِ حکیم کے سامنے سر جھکائے، اشکبار آنکھوں کے ساتھ تیرے دربار میں جھولی پھیلائے کھڑے ہیں!
اے اللہ! سورۃ یٰس کے اس پہلے رکوع کے طفیل، اس کے حروف، اس کے کلمات اور اس کے معانی و تفاسیر کی برکت سے ہمارے دلوں کے زنگ کو دھو ڈال!
ہمارے دلوں پر جو غفلت کے دبیز پردے پڑ چکے ہیں، مالک! قرآن کے انوار سے ان پردوں کو چاک فرما دے!
ہماری باطنی گردنوں سے انا، جھوٹی عزت، ضد، تکبر، کینہ اور ریاکاری کے طوقوں کو کاٹ ڈال!
ہمیں عاجزی کی دولت عطا فرما، ہمیں خاکساری کی توفیق عطا فرما!
اے ربِّ رحیم! ہمیں ان بدنصیبوں میں شامل نہ فرما جن پر تیرا غضب اترتا ہے اور جن کے دلوں اور آنکھوں پر گمراہی کے پردے پڑ جاتے ہیں۔
اے اللہ! ہمیں “خشیتِ بالغیب” نصیب فرما!
ہمیں تنہائیوں کا تقویٰ نصیب فرما!
جب ہم اپنے بند کمروں میں اکیلے ہوں، جب سمارٹ فونز ہمارے ہاتھوں میں ہوں، اے اللہ! اس وقت ہمارے دلوں میں اپنی حیا اور اپنے خوف کی شمع روشن فرما دے!
ہمارے ہاتھوں، ہماری آنکھوں اور ہمارے کانوں کو گناہوں کی غلاظت سے پاک فرما دے!
اے زندگی اور موت کے تنہا مالک!
ہمارے نامۂ اعمال میں جو گناہ درج ہو چکے ہیں، اپنی رحمت سے انہیں نیکیوں میں بدل دے!
اور ہمیں اپنے پیچھے ایسے “آثار” اور ایسے کام چھوڑ کر جانے کی توفیق عطا فرما جو ہمارے مرنے کے بعد ہماری قبروں میں صدقۂ جاریہ بن کر نور برساتے رہیں!
ہمیں کسی ایسے گناہ، کسی ایسی بے حیائی اور بدعت کو پھیلانے سے بچا لے جو ہمارے مرنے کے بعد ہماری قبروں میں عذاب کا سیلاب لے آئے!
اے باری تعالیٰ! ہمارے والدین کی بخشش فرما، جنہوں نے ہمیں پالا اور ایمان کی دولت دی۔
ہمارے اساتذہ، مشائخ اور ائمہ کی مغفرت فرما۔
پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت فرما۔ فلسطین، کشمیر، اور جہاں جہاں مسلمان مظلوم ہیں، اے عزیز و قہار رب! ظالموں کے آگے اور پیچھے ذلت کی دیواریں کھڑی فرما دے اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما!
اور اے اللہ! جب ہماری سانسیں اکھڑنے لگیں، جب سکرات کا وقت آئے، جب زبانیں گنگ ہونے لگیں، اس وقت شیطان کے حملوں سے ہمارے ایمان کی حفاظت فرما!
سورۃ یٰس کے صدقے جاں کنی کی سختیوں کو ہم پر آسان فرما،
اور ہماری آخری ہچکی کے ساتھ ہماری زبان پر یہ کلمہ جاری فرما:
code
Arabic
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ﷺ
code
Arabic
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ،
وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَّعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
(آمین یا رب العالمین، برحمتک یا ارحم الراحمین!)