سورۃ یٰسین: پہلے رکوع کی تفصیلی اور علمی تفسیر (15 منٹ کا بیان)
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي وَنُسَلِّمُ عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ
محترم حاضرین و معزز سامعین!
آج کی اس نشست میں ہم قرآنِ مجید کے “دل”، یعنی سورۃ یٰسین کے پہلے رکوع کا علمی، فکری اور روحانی جائزہ لیں گے۔ یہ پہلا رکوع درحقیقت پورے دینِ اسلام کا مقدمہ (Introduction) ہے۔ اس میں تین بنیادی موضوعات پر نہایت گہری اور منطقی بحث کی گئی ہے: قرآن کی حقانیت، نبی کریم ﷺ کی رسالت کا دفاع، اور قوموں کے زوال کی نفسیاتی وجوہات۔
آئیے! ان آیاتِ مبارکہ کے بحرِ معانی میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔
1. “يٰسٓ” — محبت بھرا خطاب اور نبوت کا راز
سورت کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے۔ بظاہر یہ دو حروف ہیں: یا (ي) اور سین (س)۔
علمائے کلام اور مفسرین (جیسے سیدنا ابن عباسؓ) فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی طے کی لغت میں ‘یٰسین’ کے معنی ہیں “اے انسان!”۔ بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ “یا سید المرسلین” کا مخفف ہے۔
یہاں ایک لطیف علمی نکتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا “اے نبی” یا “اے رسول”، بلکہ فرمایا “اے انسانِ کامل!”۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبوت کوئی مافوق الفطرت (Supernatural) چیز نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج کا نام ہے۔ مکہ کے کفار اعتراض کرتے تھے کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیج دیا؟ (أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولًا؟)۔ اللہ تعالیٰ نے “يٰسٓ” فرما کر اس اعتراض کا رد کیا کہ ہاں، ہماری وحی اور ہماری رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت صرف اس ہستی میں ہے جو انسانیت کے کمال پر فائز ہو۔ اور وہ ذات محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے۔
2. “وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ” — رسالت پر قرآنی استدلال
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی: “قسم ہے حکمت والے قرآن کی۔”
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اللہ کو قسم کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ علماء فرماتے ہیں کہ قسم ہمیشہ کسی دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ اور یہاں دعویٰ کیا تھا؟ دعویٰ اگلی آیت میں ہے: “إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ” (بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں)۔
ذرا اس استدلال کی عقلی بنت (Logical Structure) پر غور کریں۔ کفارِ مکہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت ماننے سے انکاری تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ نہیں کہا کہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں کو دیکھو، بلکہ فرمایا: اگر تم اس نبی کی سچائی پر دلیل مانگتے ہو، تو اس “قرآنِ حکیم” کو دیکھو جو اس کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔
قرآن کے ساتھ صفت لگائی گئی “الحکیم” (یعنی حکمتوں سے بھرا ہوا، ٹھوس، اور ناقابلِ تردید)۔
یہ ایک عظیم چیلنج تھا۔ مکہ کے لوگ فصاحت و بلاغت کے ماہر تھے، زبان دانی پر فخر کرتے تھے۔ اللہ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ محمد (ﷺ) نے کسی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی (وہ اُمّی ہیں)، انہوں نے 40 سال تمہارے درمیان گزارے اور کبھی کوئی شعر نہیں کہا۔ آج اچانک ان کی زبان سے ایک ایسا کلام جاری ہو رہا ہے جو کائنات کے سربستہ راز کھول رہا ہے، جو سیاست، معاشرت اور روحانیت کے قوانین بیان کر رہا ہے، جس کے ایک ایک لفظ میں اتنی حکمت ہے کہ تمہارے بڑے بڑے فلاسفر اس کا جواب لانے سے قاجز ہیں۔
تو اے عقلمندو! سوچو، کیا یہ کلام کسی عام انسان کا ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ یہ “القرآن الحکیم” ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ ہستی جو اسے پیش کر رہی ہے، وہ خدا کا سچا رسول ہے۔
3. “عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ” — سیدھا راستہ کیا ہے؟
فرمایا: آپ رسول بھی ہیں اور “ایک سیدھے راستے پر ہیں”۔
“صراطِ مستقیم” کیا ہے؟ دنیا میں فلسفے بہت ہیں، نظریات بہت ہیں، لیکن صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جس میں کوئی الجھاؤ نہ ہو، جو شارٹ کٹ ہو، اور جو سیدھا منزل تک پہنچائے۔
یہاں ایک علمی نکتہ یہ ہے کہ دینِ اسلام عقل اور فطرت (Nature) کے بالکل عین مطابق ہے۔ صراطِ مستقیم کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ افراط و تفريط (Extremism) سے پاک ہے۔ یہ نہ تو دنیا کو بالکل چھوڑ دینے (رہبانیت) کا حکم دیتا ہے اور نہ ہی مادہ پرستی میں غرق ہونے کا۔ نبی کریم ﷺ کا لایا ہوا نظام ہی وہ متوازن راستہ ہے جو انسان کی روح اور جسم، دونوں کی ضروریات کو بیک وقت پورا کرتا ہے۔
4. “تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ” — قانون اور محبت کا امتزاج
اگلی آیت میں اس قرآن کے لانے والے کا تعارف کروایا گیا: یہ نازل کیا ہوا ہے اس ذات کا جو “العزیز” (زبردست/غالب) بھی ہے اور “الرحیم” (نہایت مہربان) بھی۔
ان دو صفات کے ایک ساتھ جمع ہونے میں ایک کمال کا فلسفہ ہے۔ دنیا کا نظام یا تو طاقت پر چلتا ہے یا محبت پر۔ ایک بادشاہ طاقتور (عزیز) ہوتا ہے لیکن اس میں رحم نہیں ہوتا۔ ایک ماں رحم کرنے والی ہوتی ہے لیکن اس کے پاس طاقت نہیں ہوتی کہ وہ ہر خطرے سے بچا سکے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن جس ہستی نے اتارا ہے، اس کے پاس طاقت (العزیز) بھی ہے اور رحم (الرحیم) بھی۔ اس کا قانون ٹوٹ نہیں سکتا، اس کی گرفت بڑی سخت ہے، لیکن وہ یہ قانون تمہیں سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ تم پر رحم کرتے ہوئے تمہیں تباہی سے بچانے کے لیے بھیج رہا ہے۔
5. غفلت کا نفسیاتی تجزیہ: “لِتُنذِرَ قَوْمًا…”
پھر قرآن نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا: “تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا تھا، سو وہ غفلت میں پڑے ہیں۔”
اہلِ عرب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کئی صدیوں تک کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ اس طویل وقفے (فترت) کی وجہ سے ان میں غفلت طاری ہو گئی تھی۔
یہاں “غفلت” (Unawareness) کا لفظ بہت اہم ہے۔ کفر بعد میں آتا ہے، پہلی اسٹیج غفلت ہوتی ہے۔ غفلت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو کچھ معلوم ہی نہ ہو، بلکہ غفلت یہ ہے کہ انسان دنیا کی رنگینیوں میں اتنا کھو جائے کہ اسے اپنی حقیقت، اپنے انجام اور خدا کے وجود کی پرواہ ہی نہ رہے۔
آج کے دور پر غور کریں، آج ہماری سوسائٹی کا سب سے بڑا مسئلہ دہریت (Atheism) سے زیادہ “غفلت” ہے۔ ہمیں پتہ ہے مرنا ہے، حساب دینا ہے، لیکن ہم ایسے جی رہے ہیں جیسے کبھی مرنا ہی نہیں۔ یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ انبیاء کا کام اس غفلت کے پردے کو چاک کرنا ہوتا ہے۔
6. انجام پر مہر: “لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ…”
اس رکوع کے آخری حصے میں ان لوگوں کی نفسیاتی حالت کا بیان ہے جو حق واضح ہونے کے بعد بھی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔
فرمایا: “ان میں سے اکثر پر بات ثابت ہو چکی ہے، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔”
اور پھر ان کی حالت کی ایک انتہائی خوفناک تمثیل (Metaphor) بیان کی گئی:
“ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ٹھوڑیوں تک پھنسے ہوئے ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو تن گئے ہیں۔ اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک ان کے پیچھے…”
محترم سامعین! یہ طوق اور یہ دیواریں لوہے یا اینٹوں کی نہیں ہیں۔ یہ “انا (Ego)، تکبر اور ضد” کے طوق ہیں۔
جب کوئی شخص حق کو جاننے کے باوجود، اپنی خاندانی روایات، اپنی سرداری، یا اپنی جھوٹی انا کی وجہ سے سچائی کو ماننے سے انکار کر دے، تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ اس کی گردن تکبر کی وجہ سے اکڑ جاتی ہے (سر اوپر تن جاتے ہیں)، وہ اپنے قدموں کے نیچے پڑی سچائی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ تعصب اور ہٹ دھرمی کی ایسی دیواریں اس کے آگے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہیں کہ لاکھ دلیلیں دو، اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا (فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ)۔
اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا: “آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، ان کے لیے برابر ہے، یہ ایمان لانے والے نہیں۔” یعنی ہدایت کے دروازے ان کے لیے بند ہو چکے ہیں جنہوں نے خود اپنے اندر کی کھڑکیاں بند کر لی ہیں۔
7. ہدایت کسے ملتی ہے؟ “إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ…”
پہلے رکوع کے آخر میں اللہ نے ایک عظیم اصول بیان کر دیا کہ پھر یہ قرآن فائدہ کسے دے گا؟
“آپ کی نصیحت تو صرف اس پر اثر کرتی ہے جو نصیحت (قرآن) کی پیروی کرے، اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے۔ سو اسے مغفرت اور باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔”
یہاں ہدایت کے حصول کی دو شرطیں بتائی گئی ہیں:
- طلبِ حق (اتَّبَعَ الذِّكْرَ): انسان کے اندر سچائی کو قبول کرنے کی طلب ہو۔ وہ حق کی تلاش میں ہو۔
- خشیتِ الٰہی (خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ): تنہائی میں، جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو، تب بھی اسے اللہ کا ڈر ہو۔ جو اللہ سے غائبانہ ڈرتا ہے، اس کا دل نرم ہوتا ہے، اور نرم دل پر ہی قرآن کی بارش اثر کرتی ہے۔
خلاصہِ کلام:
عزیزانِ من! سورۃ یٰسین کا یہ پہلا رکوع ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا لایا ہوا قرآن کوئی عام کتاب نہیں، یہ ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت ہے۔ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا کہ کہیں ہم غفلت کا شکار تو نہیں؟ کہیں انا اور تکبر نے ہماری گردنوں کو جکڑ تو نہیں لیا؟
آئیے! آج ہم نیت کریں کہ ہم غفلت کے پردوں کو چاک کریں گے، اس “قرآنِ حکیم” سے اپنا رشتہ مضبوط کریں گے، اور اس صراطِ مستقیم پر چلنے کی کوشش کریں گے جو ہمیں سیدھا اللہ کی رضا تک لے جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔