Ahadis on Yaseen

سورۃ یٰسین: اصولِ دین، دلائلِ عقلیہ اور مقاصدِ قرآنی کا علمی بیان

محترم سامعین اور برادرانِ اسلام! جب ہم قرآنِ مجید کے فہم اور اس کی تفاسیر کا علمی اور استدلالی جائزہ لیتے ہیں، تو سورۃ یٰسین محض ایک سورت نہیں رہتی، بلکہ یہ علم الکلام، فلسفۂِ اسلام اور دعوت و تبلیغ کا ایک مکمل اور جامع نصاب نظر آتی ہے۔ مفسرینِ عظام، بالخصوص امام فخر الدین رازیؒ (تفسیرِ کبیر میں) اور علامہ آلوسیؒ (تفسیر روح المعانی میں)، اس سورت کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآنِ مجید کے نزول کے تین بنیادی مقاصد ہیں: توحید (اللہ کی وحدانیت)، رسالت (نبوت کا برحق ہونا)، اور معاد (مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا)۔ اور سورۃ یٰسین ان تینوں عقائد کو اتنے مضبوط منطقی اور عقلی دلائل کے ساتھ پیش کرتی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

آئیے، آج اس مبارک سورت کے چند اہم علمی اور فکری پہلوؤں پر غور کرتے ہیں:

1. حروفِ مقطعات اور خطابِ الٰہی کا حسن سورت کا آغاز ‘يس’ سے ہوتا ہے۔ یہ حروفِ مقطعات ہیں۔ اگرچہ ان کا حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ لغتِ طے میں ‘یٰسین’ کے معنی ہیں ‘یا انسان’ (اے انسانِ کامل!)۔ یہاں مراد سرکارِ دو عالم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب سے ایک انتہائی شفیق اور محبت بھرا خطاب ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اگلی بات کتنی اہم ہونے والی ہے۔

2. قرآنِ حکیم کی قسم اور رسالت کی عقلی دلیل اس کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‘وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ ۝ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ’ (قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں)۔ یہاں ایک عظیم علمی نکتہ پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ‘قسم ہے آسمان کی’ یا ‘قسم ہے زمین کی’، بلکہ قرآنِ ‘حکیم’ (حکمت والے کلام) کی قسم کھائی۔ اس میں استدلال یہ ہے کہ اے کفارِ مکہ! اگر تم محمد ﷺ کی رسالت پر شک کرتے ہو، تو ذرا اس کلام (قرآن) کی حکمت، اس کی فصاحت و بلاغت، اور اس کے لائے ہوئے نظامِ حیات پر غور کرو۔ جس ہستی کی زبان سے ایسا باکمال، حکیمانہ اور معجزاتی کلام جاری ہو رہا ہے جس کی نظیر لانے سے پوری دنیا عاجز ہے، وہ ہستی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ یعنی قرآن کی حکمت خود رسول کی سچائی کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔

3. حبیبِ نجار کا واقعہ: دعوتِ دین کا سماجی اور انقلابی پہلو سورت کے دوسرے حصے میں ‘اصحابِ قریہ’ (بستی والوں) کا ذکر ہے۔ اللہ نے وہاں تین رسول بھیجے، لیکن بستی والوں نے انہیں جھٹلا دیا۔ اس موقع پر ایک عام آدمی (جسے مفسرین نے حبیب نجار لکھا ہے) کا ذکر آتا ہے: ‘وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ’ (اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا)۔ یہ اس سورت کا ایک عظیم دعوتی سبق ہے۔ وہ شخص نہ نبی تھا، نہ کوئی بہت بڑا سردار، لیکن جب اس نے حق کو پہچان لیا، تو وہ خاموش نہیں بیٹھا۔ وہ شہر کے دوسرے کونے سے دوڑتا ہوا آیا تاکہ اپنی قوم کو حق کی طرف بلائے۔ اس نے خالص عقلی استدلال کیا: “اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور خود سیدھے راستے پر ہیں۔” یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کا کام صرف علماء یا انبیاء تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس فرد کی ذمہ داری ہے جس تک حق پہنچ چکا ہو۔ اور اس راہ میں جان کی بازی لگا دینا (جیسا کہ اس شخص نے اپنی جان دے کر جنت پائی)، دراصل ابدی زندگی کا سودا ہے۔

4. علمِ تکوین (Cosmology) اور توحید کے دلائل جب سورۃ یٰسین توحید پر بحث کرتی ہے، تو وہ انسان کو کائنات کی لیبارٹری میں لے جاتی ہے۔ فرمایا: ‘وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ…’ (اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے، ہم اس پر سے دن کو کھینچ لیتے ہیں)۔ ‘وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا…’ (اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے)۔ ‘وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ’ (اور سب کے سب ایک مدار میں تیر رہے ہیں)۔ آج کی جدید فلکیات (Astronomy) اربوں ڈالرز خرچ کر کے جس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سورج، چاند، ستارے سب اپنے اپنے مدار (Orbits) میں تیر رہے ہیں، سورۃ یٰسین نے چودہ سو سال قبل صحرائے عرب میں کھڑے ہو کر یہ علمی حقیقت بیان کر دی تھی۔ یہ منظم نظام پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق اور کنٹرولر ہے جس کی مرضی کے بغیر چاند، سورج کو نہیں پکڑ سکتا۔ یہی توحیدِ ربوبیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

5. بعثتِ بعد الموت (قیامت) پر سائنسی اور منطقی استدلال کفارِ مکہ کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ جب انسان مر کر مٹی ہو جائے گا اور ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی، تو انہیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ ‘مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ’ اس کا جواب سورۃ یٰسین نے جس منطقی انداز میں دیا، وہ علم الکلام کی تاریخ کا شاہکار ہے۔ فرمایا: ‘قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ’ (کہہ دیجیے، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا)۔ یہ ایک مسلمہ عقلی اصول ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے، لیکن جب اس کا خاکہ اور مادہ موجود ہو تو اسے دوبارہ جوڑنا زیادہ آسان ہے۔ جس رب نے تمہیں اس وقت عدم (Nothingness) سے وجود بخشا جب تم کچھ بھی نہیں تھے، کیا اس کے لیے بوسیدہ ہڈیوں سے دوبارہ انسان بنانا مشکل ہے؟

اور اس کے بعد ایک حیران کن حیاتیاتی (Biological) دلیل دی: ‘الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا’ (وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی)۔ مشرکین کہتے تھے کہ ہڈیاں سوکھ کر راکھ ہو گئیں۔ راکھ میں زندگی کی تری (Moisture) کیسے آئے گی؟ اللہ نے فرمایا کہ تم سوکھی ہڈی کو دیکھتے ہو، ذرا ہرے بھرے درخت کو دیکھو۔ اس میں پانی ہے، تری ہے، لیکن جب تم اسے رگڑتے ہو تو اس تری کے اندر سے اللہ ‘آگ’ (جو بالکل متضاد چیز ہے) نکال دیتا ہے۔ جو ذات پانی جیسے مادے سے آگ پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ سوکھی ہڈیوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے پر بھی مکمل قادر ہے۔

سامعینِ ذی وقار! سورۃ یٰسین صرف ایصالِ ثواب کے لیے نہیں اتری، یہ ہمارے شعور کو جگانے، ہماری عقلوں کو جلا بخشنے اور ہمارے عقائد کی علمی بنیادیں استوار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اگر ہم اس کی آیات میں تدبر کریں، تو یہ سورت ہمارے شکوک و شبہات کے تمام اندھیروں کو مٹا کر، ہمارے قلوب میں یقین کا وہ نور بھر دے گی جس کے بعد انسان دنیا کے ہر باطل فلسفے کے سامنے سینہ سپر ہو سکتا ہے۔







محترم حاضرینِ مجلس، برادرانِ اسلام اور معزز سامعین!

قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا وہ لاریب اور عظیم الشان کلام ہے جس کا ہر حرف نور ہے، جس کی ہر سطر ہدایت کا سرچشمہ ہے اور جس کا ہر رکوع معرفتِ الٰہی کا ایک بے کراں سمندر ہے۔ علمائے حق، مفسرینِ کرام اور عارفین فرماتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے کا ایک مرکز ہوتا ہے، ایک جوہر ہوتا ہے جس پر اس شے کی پوری بقا کا دارومدار ہوتا ہے۔ اور اسی مرکز اور جوہر کو ہم ‘دل’ کہتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ میں سید الانبیاء، احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا، وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس” (بلاشبہ ہر چیز کا ایک دل ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یٰسین ہے)۔

علمی و روحانی نقطہ نظر سے ‘دل’ کی حقیقت: عزیزانِ من! ذرا اس تشبیہ کی روحانی گہرائی پر غور فرمائیں۔ انسانی جسم میں دل کا کام کیا ہے؟ دل پورے جسم کی رگوں میں خون دوڑاتا ہے، اگر دل دھڑکنا بند کر دے تو اعضاء سلامت ہونے کے باوجود انسان مردہ ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح، قرآنِ مجید کا دل سورۃ یٰسین ہے۔ ایک مومن کا روحانی جسم اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتا جب تک اس کے اندر عقیدے کا خالص خون گردش نہ کرے۔ اور یہ خون کیا ہے؟ یہ خون تین چیزیں ہیں: توحید (اللہ کو ایک ماننا)، رسالت (نبی کریم ﷺ کو برحق نبی ماننا)، اور معاد (آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین)۔

سورۃ یٰسین کے اندر یہ تینوں عقائد اتنے جلال اور جمال کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ جب ایک قاری اس کی تلاوت کرتا ہے، تو اس کے ایمان کی رگوں میں یقین کا خون دوڑنے لگتا ہے۔ سورت کا آغاز ‘إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ’ (بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں) سے ہوتا ہے جو کہ ‘رسالت’ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ درمیان میں ‘فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ’ آتا ہے جو ‘توحید’ کا سب سے بڑا مظہر ہے، اور آخر میں ‘وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ’ آتا ہے جو ‘آخرت’ کے عقیدے کی بنیاد ہے۔ اسی لیے یہ سورت قرآن کا دل ہے، کیونکہ یہ براہِ راست انسان کے باطن اور روح کو زندہ کرتی ہے۔

دس قرآن کا ثواب اور اللہ کی غنی شان: میرے محترم بھائیو! حدیثِ پاک میں بشارت دی گئی کہ جو شخص اس ‘دل’ یعنی سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں دس مرتبہ مکمل قرآن مجید پڑھنے کا ثواب درج فرما دیتے ہیں۔ علمی لحاظ سے دیکھیں تو قرآن کا اصول ہے: “مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا” (جو ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا اجر ملے گا)۔ چونکہ سورۃ یٰسین پڑھ کر بندے نے گویا پورے قرآن کے مقاصد (توحید، رسالت، آخرت) کا اقرار کر لیا، تو پروردگار کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندے کو ایک قرآن کے اقرار پر دس قرآن کی تلاوت کا ثواب عطا فرما کر اپنی شانِ غفاری و رحیمی کا مظاہرہ فرماتا ہے۔ یہ محض ثواب نہیں، بلکہ یہ اللہ کے خزانوں سے مومن کے لیے ایک روحانی تحفہ ہے۔

صبح کی تلاوت — توکل اور حاجات کی تکمیل: حضرت عطاء بن ابی رباحؒ کی وہ مرسل روایت جسے صوفیاء اور علماء نے اپنے معمولات کا حصہ بنایا کہ “مَنْ قَرَأَ يس فِي صَدْرِ النَّهَارِ قُضِيَتْ حَوَائِجُهُ” (جو دن کے آغاز میں یٰسین پڑھے، اس کی حاجات پوری کر دی جاتی ہیں)۔ اس کی روحانیت کیا ہے؟ انسان جب صبح بستر سے اٹھتا ہے تو اس کے سامنے دنیا بھر کے تفکرات، رزق کی تلاش، اور ہزاروں پریشانیاں منہ کھولے کھڑی ہوتی ہیں۔ انسان کمزور ہے۔ لیکن جب وہ فجر کے بعد مصلے پر بیٹھ کر سورۃ یٰسین پڑھتا ہے، تو وہ دراصل اللہ کی بارگاہ میں ایک روحانی معاہدہ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے: “اے پروردگار! میں نے اپنے دن کا آغاز تیرے کلام کے ‘دل’ سے کر دیا ہے، اب میرے دن بھر کے معاملات، میری روزی روٹی، اور میری تمام ضروریات تیرے ذمے ہیں”۔ جب بندہ اپنا دل اللہ کے کلام سے جوڑ لیتا ہے، تو مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ غیب سے ایسے اسباب پیدا فرماتا ہے کہ دنیا کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور بندے کی حاجات پوری کر دی جاتی ہیں۔

رات کی تلاوت — تزکیۂ نفس اور مغفرت: اور جب یہی انسان دن بھر دنیاوی معاملات میں الجھنے کے بعد، تھک ہار کر رات کو بستر پر جاتا ہے، تو حدیث کے الفاظ ہیں: “مَنْ قَرَأَ يس فِي لَيْلَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ غُفِرَ لَهُ” (جس نے رات کے وقت خالص اللہ کی رضا کے لیے اسے پڑھا، اسے بخش دیا جاتا ہے)۔ علمائے باطن فرماتے ہیں کہ دن بھر بازاروں، دفتروں اور محفلوں میں انسان کی آنکھ، کان اور زبان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں، وہ اس کے قلب (دل) پر سیاہ دھبے لگا دیتے ہیں۔ رات کو جب وہ سورۃ یٰسین پڑھتا ہے، تو قرآن کا یہ منور ‘دل’ انسان کے سیاہ ‘دل’ کو دھو کر پاک کر دیتا ہے۔ وہ سوتا بعد میں ہے، اللہ کی رحمت اس کے گناہوں کا دفتر پہلے مٹا چکی ہوتی ہے۔

نزع کا عالم اور روح کی پرواز: سامعینِ محترم! موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر جان کو چکھنا ہے۔ احادیث میں حکم ہے: “اقْرَءُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ يس” (اپنے مرنے والوں پر سورۃ یٰسین کی تلاوت کرو)۔ ذرا اس کے روحانی پہلو کو محسوس کریں۔ نزع کا وقت وہ ہوتا ہے جب دنیا کے پردے ہٹ رہے ہوتے ہیں اور آخرت کے مناظر سامنے آ رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت انسان پر شدید گھبراہٹ طاری ہوتی ہے، شیطان آخری وار کر رہا ہوتا ہے تاکہ ایمان چھین لے۔ ایسے میں جب قریب بیٹھے ہوئے عزیز و اقارب سورۃ یٰسین تلاوت کرتے ہیں، جس میں انبیاء کے سچے ہونے، جنت کے باغات، اور اللہ کی رحمتوں کا ذکر ہے، تو مرنے والے کی روح کو ایک عجیب طمانیت اور سکون ملتا ہے۔ اس کے کانوں میں جب جنت والوں کا یہ قول پڑتا ہے کہ “قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ” (کہا گیا جنت میں داخل ہو جا، اس نے کہا کاش میری قوم جان لیتی)، تو موت کی سختیاں کافور ہو جاتی ہیں اور روح بدن سے ایسے نکلتی ہے جیسے گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔

حرفِ آخر: میرے بھائیو اور بزرگو! یہ کوئی عام سورت نہیں، یہ اللہ کے کلام کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ یہ دنیا کے بند دروازے بھی کھولتی ہے، گناہوں کے بوجھ بھی اتارتی ہے اور قبر و حشر کی منازل کو بھی روشن کرتی ہے۔ آئیے، آج اس بابرکت محفل میں ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے سینوں کو اس کلام کے نور سے خالی نہیں رکھیں گے۔ ہم سورۃ یٰسین کو اپنی صبح و شام کا وظیفہ بنائیں گے، اسے ترجمے اور تفسیر کے ساتھ سمجھیں گے، اور اس کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں گے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اور موت کے وقت سورۃ یٰسین کی برکات سے ہمارے خاتمے کو بالخیر فرمائے۔ آمین یا رب العالمین، وما توفیقی الا باللہ۔

Leave a Comment