وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۙ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔

مکمل خطبہ و تقریر: “سورۃ العصر اور انسان کا خسارہ”
۱. خطبہ مسنونہ (آغاز):
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔
قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی فِی الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ وَالْفُرْقَانِ الْحَمِیْدِ:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۙ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔
صَدَقَ اللّٰهُ مَوْلَانَا الْعَظِیْمِ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ الرَّؤُوْفُ الرَّحِیْمُ۔
اَللّٰھُمَّ نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بِالْقُرْاٰن، وَزَیِّنْ اَخْلَاقَنَا بِالْقُرْاٰن، وَاَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ بِالْقُرْاٰن، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ بِالْقُرْاٰن۔
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰه، وَعَلٰی اٰلِكَ وَاَصْحَابِكَ یَا مَحْبُوْبَ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

۲. تمہید اور سامعین سے خطاب:

تمام حمد و ثنا، تعریف و توصیف اللہ جلّ مجدہ الکریم کی ذاتِ بابرکات کے لیے، جو خالقِ کائنات بھی ہے اور مالکِ شش جہات بھی۔ اللہ جل و علیٰ کی حمد و ثنا کے بعد رسولِ رحمت، شفیعِ معظم، نبیِ محتشم، حضور ختمی المرتبت ﷺ کے حضورِ ناز میں اپنی عقیدتوں، ارادتوں اور محبتوں کا خراج پیش کرنے کے بعد—
واجب الاحترام علمائے کرام، معزز سامعین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج درسِ قرآن کی اس تقریب میں آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں۔ لمبا خطاب کرنے کی عادت نہیں ہے، تھوڑے وقت کے لیے آپ اپنی تمام تر توجہات سمیٹ کر میری جانب کر دیں، تو شاید چند باتیں آپ کے لیے اور میرے لیے نفع کا سبب بن جائیں۔ اللہ میری زبان پر کلمۃ الحق جاری فرمائے۔
ہمارے خطباء آدھی تقریر خود کرتے ہیں اور آدھی مجمعے سے کرواتے ہیں، میں ساری خود ہی کروں گا۔ صرف مجھے آپ کی توجہ درکار ہوگی۔
۳. سورۃ العصر اور لفظِ “العصر” کی تفسیری تحقیق:
حضرات! میں نے قرآنِ مجید سے جو کلمات تلاوت کیے ہیں، وہ قرآن کی مختصر ترین سورت یعنی سورۃ العصر ہے۔
اس سورت کا آغاز قسم سے کیا جا رہا ہے، اور قسم بھی “عصر” کی کھائی جا رہی ہے۔
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے تفسیر کبیر میں اس پر چار اقوال بیان فرمائے ہیں کہ “العصر” سے کیا مراد ہے؟
پہلا قول: مطلق زمانہ (تاریخ کی گواہی)
عصر سے مراد مطلق زمانہ ہے۔ زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان خسارے میں ہے۔
اور انسان کے خسارے کا سب سے بڑا گواہ خود یہ زمانہ ہے! اس زمانے نے بڑے بڑے بادشاہوں کے تخت و تاج الٹتے دیکھے ہیں۔ جن کا طوطی بولتا تھا، زمانے نے ان کے محلات کو پیوندِ خاک ہوتے دیکھا۔ جن کے نوبت و نقارے بجتے تھے، ان کا نام و نشان مٹتے دیکھا۔
کہاں گئے آلِ ساسان؟ جنہوں نے ساڑھے اکتیس سو (3150) سال ایران پر حکومت کی! ڈیڑھ سو حکمران یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوتے رہے، مگر آج دنیا ان کا نام تک نہیں جانتی۔
مشتاق یوسفی نے کیا خوب کہا تھا:
مٹ گیا مشتاق دل سے رنگِ یادِ رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے، قبریں پرانی ہو گئیں
میاں محمد بخش علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
جناں باجھوں اک پل نہیں ساں جیندے، اوہ شکلاں یاد نہ رہیاں!
دوسرا قول: وقتِ عصر (ڈھلتی ہوئی عمر)
جب سورج زوال پذیر ہو جائے اور سائے دوگنے ہو جائیں، اس وقت سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا وقت “وقتِ عصر” کہلاتا ہے۔
اس ڈھلتے سورج کی قسم کھا کر غافل انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اے غافل! تیری زندگی بھی ڈھلتے ہوئے سورج کی طرح ہے:
ڈیگر تے دن گیا محمد، اوڑک نوں ڈب جانا!
تیسرا قول: نمازِ عصر اور فقہی مسئلہ
عصر سے مراد “نمازِ عصر” ہے۔ عصر کا وقت انتہائی نازک ہوتا ہے۔ دکان سمیٹنی ہوتی ہے، گاہک سر پر کھڑا ہوتا ہے، مسجد سے حی علی الصلاۃ کی صدائیں آتی ہیں اور غفلت کی وجہ سے نماز رہ جاتی ہے۔
فقہی مسئلہ و حدیثِ صحیح:
فقہِ حنفی اور کتبِ احادیث میں نمازِ عصر کی غیر معمولی تاکید آئی ہے۔ صحیح بخاری (حدیث: 553) میں تاجدارِ کائنات ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:
“مَنْ تَرَکَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ”
(جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑی، اس کے اعمال برباد ہو گئے)۔
تو تنبیہ فرمائی گئی کہ رزق کی تلاش میں رازق کو نہ بھول جانا، اور دکان داری کے چکر میں نمازِ عصر ضائع نہ کر بیٹھنا!
چوتھا قول: زمانۂ رسالتِ مآب ﷺ
امام رازی فرماتے ہیں کہ عصر سے مراد “زمانۂ خاص” ہے، یعنی میرے محبوبِ پاک سرورِ کائنات ﷺ کا مبارک زمانہ!
اللہ تعالیٰ نے محبوب کے زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے محبوب! تیرے زمانے کی قسم، انسان خسارے میں ہے۔
جس طرح سورۃ البلد میں اللہ نے مکے کی قسم اپنے محبوب کی وجہ سے کھائی:
“لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۙ وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ”
(قسم ہے مجھے اس شہرِ مکہ کی، اس لیے کہ محبوب آپ اس میں تشریف فرما ہیں)۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ علماء میں اختلاف ہوا کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ لیکن تیسرا اور سب سے وزنی مسلک یہ ہے کہ:
جب حضور مکے میں تھے تو مکہ افضل تھا، جب مدینے تشریف لائے تو مدینہ افضل ہو گیا! اور جب جنت میں ہوں گے تو جنت افضل ہوگی!
جہاں جہاں مصطفیٰ ﷺ کے قدم پڑے، شرف و مجد اس کے پیچھے پیچھے رہا!
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا:
زمین و زماں تمہارے لیے، مکین و مکاں تمہارے لیے
چنین و چناں تمہارے لیے، بنے دو جہاں تمہارے لیے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے عوارف المعارف میں لکھا کہ ایک مرید نے پوچھا: “حضور! کائنات میں سب سے افضل جگہ کون سی ہے؟” فرمایا: “میرے بچے! وہی جگہ جہاں مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما ہیں!”
۴. “إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ” اور سمرقند کے برف فروش کا واقعہ:
آج کا انسان کہتا ہے: “میں کہاں خسارے میں ہوں؟ میں تو ہوا کے دوش پر اڑتا ہوں، میں نے ایٹم کا کلیجہ چیر دیا، میں چاند پر پہنچ گیا، دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا، بڑی بڑی مارکیٹیں اور پلازے بنا لیے!”
اللہ کے بندو! ہوا میں اڑنا انسانی کمال نہیں، چڑیا بھی اڑتی ہے؛ پانی کی تہہ میں اترنا کمال نہیں، مچھلی بھی تیرتی ہے۔ انسان کا کمال تو مروت، بھائی چارہ، ہمدردی، اخلاق اور خدا ترسی تھا، جو آج دم توڑ چکا ہے! آج کا انسان انسانوں کی لاشوں پر رقص کر رہا ہے، اور پھر بھی کہتا ہے کہ میں خسارے میں نہیں ہوں؟
ایک بزرگ فرماتے ہیں:
“مجھے قرآن کی اس آیت ‘إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ’ کا مفہوم تب سمجھ آیا جب میں سمرقند کے بازار سے گزر رہا تھا۔
وہاں ایک شخص تختے پر برف رکھ کر بیچ رہا تھا اور گریہ زاری کے ساتھ پکار رہا تھا:
‘اِرْحَمُوْا اِرْحَمُوْا مَنْ يَّذُوْبُ رَأْسُ مَالِہٖ!’
(لوگو رحم کرو! اس تاجر پر رحم کرو جس کا اصل سرمایہ پگھلتا جا رہا ہے!)”
کپڑا بیچنے والے کا گاہک نہ آئے تو کپڑا کل بھی بک جائے گا؛ پیٹرول نہ بکے تو کل اس کے دام اور بڑھ جائیں گے؛ لیکن برف کا تاجر ایسا ہے کہ گاہک آئے یا نہ آئے، برف قطرہ قطرہ پگھل رہی ہے!
انسان کی زندگی کی سانسیں بھی اس برف کی طرح ہیں۔ تم سوتے رہو، تاش کھیلتے رہو، ہوٹلوں پر گپیں ہانکتے رہو یا سجدوں میں روتے رہو—یہ سانسوں کی گھڑی الٹی چل رہی ہے اور صفر (Zero) کی طرف بڑھ رہی ہے!
مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“انسان کا خسارہ یہ ہے کہ وہ اپنی سانسوں سے اپنی زندگی کو خود توڑ رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا ہو رہا ہوں، حالانکہ وہ روز بروز قبر کے قریب ہو رہا ہے۔”
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمہ اسی غفلت پر جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں:
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
۵. کائنات کی ہر شے کا خسارہ اور ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کا بے عیب حسن:
اللہ نے ہر شے کو ایک حسن دیا تو دوسرا چھین لیا:
پھول میں خوشبو ہے تو روشنی نہیں۔
چاند میں روشنی ہے تو خوشبو نہیں۔
بلبل کی آواز میں جادو ہے تو پنجوں میں طاقت نہیں۔
شیر کے پنجوں میں طاقت ہے تو پرواز نہیں۔
کوئل کی آواز میٹھی ہے مگر رنگ کالا ہے۔
مور کے پر خوبصورت ہیں مگر پاؤں بدصورت ہیں۔
بچپن میں معصومیت ہے تو جوانی کا زور نہیں۔
جوانی میں زور ہے تو بڑھاپے کا تجربہ نہیں۔
بڑھاپے میں تجربہ ہے تو بچپن والی بے فکری اور موج نہیں۔
کائنات کی ہر شے کسی نہ کسی خسارے میں ہے! لیکن اگر کسی ایسی ذات کو دیکھنا چاہتے ہو جس میں رب نے کوئی خسارہ، کوئی نقص اور کوئی عیب رکھا ہی نہیں، تو آؤ مدینے کی گلیوں میں!
شاعر نے کہا:
حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
ابو لہب کو دیکھو: خاندانی ہاشمی تھا، قریشی سردار تھا، چہرہ آگ کے شعلے کی طرح دمکتا تھا، اسی لیے “ابو لہب” کہلایا؛ مگر مصطفیٰ ﷺ سے کٹا تو جہنم کا ایندھن بنا اور اس کا نام گالی بن گیا!
اور دوسری طرف بلالِ حبشی رضی اللہ عنہ کو دیکھو: رنگ کالا، ہونٹ موٹے، غلام ابنِ غلام؛ مگر دامنِ مصطفیٰ ﷺ سے لپٹے تو آج ہر منبر و محراب کی زینت بن گئے!
علامہ اقبال نے فرمایا:
اقبال کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے!
اور اعلیٰ حضرت نے پکار کر کہا:
آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا!
۶. “إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ”: ایمان، فقہی حقیقت اور اسلاف کا کردار:
خسارے سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟ ایمان اور عملِ صالح!
فقہی و اعتقادی مسئلہ:
ائمہ احناف اور متکلمین کے نزدیک: “الإیمانُ هو التصدیقُ بما جاءَ به النبی ﷺ”
ایمان اصل میں دل کی تصدیق کا نام ہے۔ عمل اگرچہ نفسِ ایمان کا لازمی جزو نہیں (یعنی گناہ گار کافر نہیں ہوتا)، لیکن ایمان اگر درخت ہے تو عمل اس کا پھل ہے! اعمال کے بغیر ایمان سوکھے ہوئے درخت کی مانند ہے جو تیز ہواؤں کے ایک ہی تھپیڑے سے اکھڑ سکتا ہے۔
آج ہم ایئر کنڈیشنڈ مسجدوں میں، مخملی جائے نمازوں پر بیٹھ کر، ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے، سامنے مائیک رکھ کر کہتے ہیں: “جی آج کل دین پر چلنا بڑا مشکل ہو گیا ہے!”
ارے صاحب! دین پر چلنا تمہارے لیے مشکل ہے یا دہکتے انگاروں پر لٹائے جانے والے حضرت خباب بن ارتؓ کے لیے مشکل تھا؟ دین پر چلنا تمہارے لیے مشکل ہے یا جن کے پاؤں اونٹوں سے باندھ کر مخالف سمت میں ہانک کر دو ٹکڑے کر دیا گیا، ان کے لیے مشکل تھا؟
حضرت بلالؓ پر کوڑے برسائے جاتے، وہ مسکرا کر فرماتے:
“تو ترش رو ہو کر گالی ہزار دے، یہ وہ نشہ ہی نہیں جسے ترشی اتار دے!”
آج ہمارا حال کیا ہے؟
مساجد کے بیت الخلاء کے لوٹے زنجیروں سے باندھنے پڑتے ہیں! واٹر کولر کے گلاس زنجیروں سے جکڑے جاتے ہیں!
میرا ایک دوست ننکانہ صاحب گیا، سکھوں کے گوردوارے میں داخل ہوتے وقت جوتے کونے میں چھپانے لگا۔ ایک نوجوان سکھ نے مسکرا کر کہا:
“بابو جی! جوتے یہیں کھلے رہنے دو، یہ سکھوں کا گوردوارا ہے، مسلمانوں کی مسجد نہیں ہے جہاں سے جوتے چوری ہو جائیں!”
ہمارے کردار نے اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں!
لکشمن پرشاد نے سیرت النبی ﷺ پر کتاب لکھی “عرب کا چاند”۔ کسی نے پوچھا: “تُو مسلمان کیوں نہیں ہوا؟” بولا: “جب نبی کا کردار پڑھتا ہوں تو دل کرتا ہے غلام بن جاؤں، مگر جب مسلمانوں کا کردار دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں اس سے تو ہندو ہی اچھا ہے!”
اقبال نے شکوہ و جوابِ شکوہ میں یہی ماتم کیا تھا:
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!
امام محمد بن حسن شیبانیؒ کا جب جنازہ اٹھا، تو اس جلوس کو دیکھ کر ایک یہودی اور عیسائی نے صرف ان کے جنازے کی چارپائی کو کندھا لگایا، تو زبان پر کلمہ جاری ہو گیا! ہمارے بزرگ وہ تھے جن کے جنازے دیکھ کر لوگ کلمہ پڑھتے تھے، اور آج ہمارے زندہ وجود اسلام کے راستے کی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
۷. “وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ”:
امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حق سے مراد توحید، اسلام اور قرآن ہے۔
اور صبر سے مراد: دین کے راستے میں آنے والی تکالیف پر صبر کرنا، اور دنیا کے مصائب پر شکوہ نہ کرنا۔
انسان کی پیدائش کے وقت اس کے خمیر پر 39 دن دکھوں کی بارش ہوئی اور صرف ایک دن سکھ کی بارش ہوئی۔ اس لیے دنیا میں دکھ زیادہ ہیں اور سکھ کم۔
میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں:
دکھ ہمیشہ سکھ دا دائی، دکھاں توں سکھ وارے
دکھ قبول محمد بخشا، راضی رہن پیارے!
(جے سوہݨا میرے دکھ وچ راضی، تے میں سکھ نوں چُلھے ڈاہواں!)
امیر المومنین حضرت علیؓ سے مروی حدیثِ پاک:
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“جو بندہ اللہ کے دیے ہوئے تھوڑے رزق پر راضی ہو گیا، اللہ قیامت کے دن اس کے تھوڑے اعمال پر راضی ہو جائے گا!”
رب فرمائے گا: “اے بندے! تجھے تو بچوں کے لیے دوا چاہیے تھی، بیٹی کے لیے جہیز چاہیے تھا، لیکن تو پھر بھی الحمد للہ کہہ کر مجھ پر راضی رہا؛ آج تیرے پاس سجدے کم ہیں مگر میں تیرے تھوڑے عمل پر راضی ہو کر تجھے بخش دیتا ہوں!”
یہ دنیا بَوائی کا موسم ہے، تخمِ عمل ڈالنے کا وقت ہے۔ جو کسان آج پسینہ بہائے گا، کل وہی سنہری فصل کاٹے گا۔
۸. پُرجوش اختتامیہ (11 آسان، یاد رکھنے اور گرجدار آواز میں بولنے والے جملے):
(سامعین کے دلوں پر چوٹ لگانے کے لیے پورے خطیبانہ جلال اور جذبے سے پڑھیں)
انسان کا اصل سرمایہ بینک کا بیلنس نہیں، بلکہ اس کی سانسیں ہیں!
برف پگھل رہی ہے اور گھڑی کی ہر ٹک ٹک ہمارے کفن کی سلائی کا وقت قریب لا رہی ہے!
دُنیا کی ترقی نے انسان کو چاند پر پہنچا دیا، مگر انسانیت کو پاتال میں گرا دیا!
کائنات کی ہر شے زوال پذیر ہے، نجات کا واحد سہارا صرف دامنِ مصطفیٰ ﷺ ہے!
جوانی کے بانکپن پر اتراؤ مت، ڈھلتی ہوئی شام کا سورج تمہاری موت کا اعلان کر رہا ہے!
دکانیں چمکانے والو! عصر کے وقت سجدہ چھوڑ کر کمایا ہوا نفع سراسر خسارہ ہے!
ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یہ مت کہو کہ دین مشکل ہے، بلالِ حبشیؓ کے دہکتے انگاروں کو یاد کرو!
زبانی دعوے چھوڑو، اپنے کردار سے ثابت کرو کہ تم امن والے مصطفیٰ ﷺ کے سچے غلام ہو!
حکمرانوں کو برا کہنے والو! پہلے مساجد کے لوٹوں اور گلاسوں سے چوری کے خوف کی زنجیریں کاٹ کر دکھاؤ!
جب تک سانس کی ڈوری سلامت ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور رب کی رحمت پکار رہی ہے!
آؤ آج کے بعد اپنی زندگی کی برف کو گناہوں میں پگھلانے کے بجائے سجدوں اور درود و سلام کے سانچے میں ڈھال لیں!
۹. رقت آمیز اختتامی دعا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔
اے اللہ! اٹھے ہوئے ہاتھ، پھیلی ہوئی جھولیاں تیری رحمت کی طلب گار ہیں۔ ہمارے من میں چراغاں کر دے، باطن میں روشنیاں ڈال دے۔
جتنے لوگ اس مجلس میں آئے ہیں، ان کے گھروں کو امن، سکون اور برکت کا گہوارہ بنا دے۔ اس درسِ قرآن کے صدقے ہماری سانسوں کو خسارے سے بچا لے۔ ہمارے کردار کو ایسا بنا کہ غیر مسلم بھی ہمیں دیکھ کر کلمہ پڑھیں۔
ہمیں وقت کی قدردانی، نمازِ عصر کی پابندی، اور مصائب پر صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرما۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْاَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَةِ۔
وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِهٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِیْنَ، بِرَحْمَتِكَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔ آمین!

Leave a Comment